163

بھاری بھرکم بستوں سے ملی آزادی

لاک ڈاون کے بیچ حکومت نے اسکولی بچوں کو خوشخبری سنادی
یواین آئی

سرینگر، 16 اپریل: عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر مکمل لاک ڈاون کے بیچ جب وادی کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں جموں وکشمیر حکومت کے محکمہ تعلیم نے بالآخر چھوٹے اسکولی بچوں کو بستوں کے بھاری بھرکم بوجھ سے آزاد کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔متعلقہ محکمہ کی طرف سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کے سربراہوں سے کہا گیا ہے کہ اپنے اپنے اسکولوں میں دوسری جماعت تک کے طلبا کو کسی قسم کا ہوم ورک نہ دینے کو یقینی بنائیں۔بتادیں کہ اسکولوں خاص کر نجی اسکولوں میں چھوٹے بچوں کو درجنوں کتابیں دی جاتی ہیں جس سے ان کے بستے اس قدر بھاری بھرکم ہوتے ہیں کہ ان کو اٹھاتے ہوئے بچے مختلف قسم کی کمر کی تکلیفوں میں مبتلا ہوتے تھے جس کے چلتے کئی سماجی حلقوں کی طرف (۶پر)
سے اس کے خلاف آوازیں بلند ہورہی تھیں۔یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ یو این آئی اردو نے اس حساس معاملے کے حوالے سے کئی اسٹوریاں کیں تاکہ یہ معاملہ ارباب اقتدار تک پہنچ کر چھوٹے اسکولی بچوں کو بچپن میں ہی کمر خمیدہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ادھر کئی سماجی حلقوں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کو بچوں اور ان کی تعلیم کے لئے ایک بہترین فیصلہ قرار دیا ہے۔آرتھو پیڈک ماہرین کا ماننا ہے کہ بھاری بھرکم بستوں سے کم عمر طلبا کے ریڑھ کی ہڈیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھاری بھرکم بستے اٹھانے سے بچے نہ صرف تھک جاتے ہیں بلکہ اس سے وہ ریڑھ کی ہڈیوں اور کمر درد کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔متعلقہ محکمہ کی طرف سے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن نے جموں وکشمیر اسکول ایجوکیش ایکٹ 2002 میں رول 8 اے شامل کیا ہے جس کے تحت تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کے سربراہوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اسکولوں میں دوسری جماعت تک کے طلبا کو ہوم ورک نہ دینے کو یقینی بنائیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پری پرائمری (نرسری، ایل کے جی، یو کے جی) کے کلاسوں تک کسی قسم کی رسمی کتابیں نہیں ہوں گی تاہم ان جماعتوں کے بچوں کو صرف دو نوٹ بکس فراہم کی جائیں گی جو اساتذہ کی ہی تحویل میں رہیں گی۔ایکٹ میں کی گئی ترمیمات کے مطابق پری پرائمری کی کلاسوں کے بچوں کو کوئی اسکول بستہ نہیں ہوگا صرف وہ لنچ بکس اسکول ساتھ لے سکتے ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق پہلی اور دسری جماعت کے طلبا کو زبان اور ریاضی کے مضامین کے علاوہ دوسری کتابیں فراہم کرنے کی کسی بھی اسکول کو اجازت نہیں ہوگی اور تیسری جماعت سے پانچویں جماعت تک طلبا کو زبان کے مضامین کے علاوہ ماحولیاتی سائنس اور ریاضی کے مضامین پڑھائے جائیں گے۔دریں اثنا حکومت کے اس فیصلے کو عوامی حلقوں میں خیر مقدم کیا جارہا ہے۔سری نگر کے خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم بدرد دوجا جنہوں نے سال 2016 میں، اس معاملے کے حوالے سے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا: ‘حکومت نے آخر کار میری بات تسلیم کرکے اسکولی بچوں کو کتابوں کے بھاری بستوں سے آزاد کیا لیکن ہمیں اس کے لئے مزید کام کرنا ہوگا کیونکہ نجی اسکولوں کے بارے میں، میں پر اعتماد نہیں ہوں’۔مدثر احمد نامی ایک اسکالر نے کہا کہ یہ فیصلہ بچوں کے لئے بے حد مفید ثابت ہوگا اور وہ بغیر کسی دباو¿ کے پڑھائی کرسکتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ بدرد دوجا نے معاملے پر دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی میں ہائی کورٹ سے گذارش کی تھی کہ وہ متعلقین کو پالیسی فیصلہ سامنے لیکر آنے کی ہدایات جاری کریں تاکہ معصوم بچوں کو بھاری بھرکم بستوں کے باعث ہونے والے صحت کے مسائل سے بچایا جاسکے۔ عرضی گذار نے اسکولی بچوں کے بستوں کا وزن کم کرنے کے لئے اسکولوں میں ای کلاس روم، صوتی بصری ٹیکنالوجی اور تدریس کے لئے دیگر تکنیکی ذرائع کے استعمال کی تجویز پیش کی تھی۔ عرضی گذار نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ طبی لحاظ سے اسکولی بستے کا وزن ایک طالب علم کے وزن کا دس فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کو اسکول منتظمین کو اسکولوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب رکھنے کے لئے کہنا چاہیے تاکہ بچوں کو پانی کی بوتلیں ساتھ نہ لانی پڑیں۔ انہوں نے اس کے علاوہ اپنی عرضی میں اسکولوں میں 8 کاپیوں کے بجائے صرف 2 کاپیوں کے استعمال اور اسکولوں میں کتابوں اور کاپیوں کے لئے ریک اور لاکر دستیاب رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں