235

جموں و کشمیر کےلئے نئی فلم پالیسی10 دن میں منظر عام پر آجائے گی، مقصد سنہری دورکی سنہری اسکرین پر واپسی : لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا

نئے سیاحتی مقامات اوربہترسہولیات پرتوجہ مرکوز
کہاسیاح صرف سیروتفریح کےلئے نہیں بلکہ اہلیانِ کشمیرسے جڑنے کےلئے آ رہے ہیں،سیاحوں اور عوام کی صحت کےساتھ کوئی سمجھوتہ کئے بغیر سیاحتی سرگرمیاں بحال
نیوز سروس،یواین آئی
سری نگر:۲۱،اپریل:جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیرکے روزاعلان کیاکہ ان کی سربراہی میں انتظامیہ10 روز کے اندر ’جموں و کشمیر کےلئے نئی فلم پالیسی‘سامنے لائے گی جس کا مقصد سنہری دور کو سنہری اسکرین پر واپس لانا ہے۔یہاں مشہور ڈل جھیل کے کنارے ایس کے آئی سی سی میں ”جنت میں ایک اور دن – کشمیر کی سیاحتی صلاحیت“کے موضوع سے متعلق2 روزہ کانفرنس سے ورچوئل موڈ کے ذریعہ ، خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے تمام متعلقین کیساتھ مباحثے وصلاح مشورے کے بعد نئی فلم پالیسی کو تقریبا ً حتمی شکل دے دی ہے، اور اب سے10 دن کے اندر اس کا اعلان کردیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ نئی فلم پالیسی روڈ میپ پر مشتمل ہے کہ ہم کیسے چاندی کی سکرین پر 70 اور 80 کی دہائی کے سنہری دور کو واپس لاسکتے ہیں۔منوج سنہاکاکہناتھاکہ ہم پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں کہ 60 ، 70 اور 80 کی دہائی میں کشمیر فلم بنانے والوں یعنی بالی ووڈکا پسندیدہ مقام ہوتا تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہا کہ ہم بحیثیت ایک ٹیم اسی ثقافت کو واپس لانے کے لئے کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی جموں و کشمیر اور دیگر حصوں میں مختلف اہم متعلقین سے مکمل مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔ ملمنوج سنہا نے کہاکہ ایک روڈ میپ پر عمل کیا جائے گا کہ کس طرح کشمیر میں سنہری دور اور فلمی کلچر کو واپس لایا جائے۔نئے سیاحتی مقامات کے بارے میں ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ سیاحت کی بحالی کےلئے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں اور متعدد نئے سیاحتی مقامات کی تلاش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نئے سیاحتی مقامات پر سیاحت کا ایک بہتر بنیادی ڈھانچہ لگانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ سیاح نئی جگہوں پربغیرکسی پریشانی کے لطف اٹھا سکیں۔انہوںنے کہاکہ اس کیلئے ہم نے نجی سیکٹر کو بھی مدعو کیا ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ کوڈ 19 وبائی بیماری کے باوجود ، دسمبر2020 کے بعد سے ہندوستان میں باقی ریاستوں کے مقابلے میں گھریلو سیاحوں کی تعداد سب سے زیادہ دیکھنے میں آئی۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کےلئے سفر میں آسانی کو یقینی بنانے کےلئے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں،سری نگر ہوائی اڈے سے رات کی پروازیں چل رہی ہیں ، سری نگر سے بنگلورو کےلئے اب براہ راست پرواز
ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاح نہ صرف مقامات کی تلاش کےلئے ، بلکہ وادی کے لوگوں سے بھی جڑنے کے لئے کشمیر آ رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیاحتی سرگرمیاں جاری ہیں اور اس دوران سیاحوں و مقامی لوگوں کی صحت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں کورونا کی وجہ سے جو سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ سیاحت کا ہے۔ جموں و کشمیر میں سیاحوں اور عوام کی صحت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کئے بغیر ہم نے کئی قدم اٹھائے ہیں جن کی بدولت یہاں سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔ اس انڈسٹری سے جڑے لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے کہا کہ پچھلے سال ستمبر میں جموں و کشمیر میں جہاں بے روزگاری کی شرح16 اعشاریہ ایک فیصد تھی وہیں رواں سال31 مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح نیچے گر کر 9 فیصد پر آ گئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھاکہ دہلی، ہماچل اور گووا جیسی سیاحتی ریاستوں میں بے روزگاری کی شرح جموں و کشمیر سے زیادہ ہے۔ اس کامیابی میں سیاحتی شعبے کی بڑی شراکت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ میرے لئے خوش قسمتی کی بات ہے کہ رواں سال ملک میں سب سے زیادہ سیاح جموں و کشمیر میں آئے ہیں۔انہوں نے کہاکہہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے وقت میں اس میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس کی بدولت یہاں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور یہاں معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھاکہجموں و کشمیر میں دوسری جگہوں پر بھی ٹیولپ گارڈن جیسے باغات تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں