191

جنگجوﺅں کی جانب سے مساجد کا غلط استعمال: آئی جی پی کشمیر

کہاسوسائٹی، مساجد انتظامیہ، سرکردہ شخصیات اور میڈیا کو اس کی مذمت کرنی چاہئے
کشمیرنیوز سروس

سری نگر:۲۱،اپریل:کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں جنگجو مساجد کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جنگجووں کی طرف سے ایسا کرنے کی مذمت کرنی چاہئے۔آئی جی پی کشمیر نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کیا۔ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ جنگجووں نے حملے کرنے کے خاطر مساجد کا غلط استعمال کیا ہے، پانپور میں19 جون2020کوایک مسجدمیں پناہ لینے والے تین جنگجومارے گئے، سوپور میں یکم جولائی 2020 اور شوپیاں میں9 اپریل 2021 کو ایسا کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق یکم جولائی2020کوجنگجوﺅں نے سوپورمیں مبینہ طورپرایک مسجد سے فائرنگ کی ،جسکے نتیجے میں ایک عام شہری ہلاک اورسی آرپی ایف کے تین اہلکارزخمی ہوگئے تھے۔ آئی جی پی کشمیر نے اسبات پرزوردیاکہ سول سوسائٹی، مساجد انتظامیہ، سرکردہ شخصیات اور میڈیا کو اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہئے۔بتادیں کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے جان محلے میں9 اپریل کو ایک مسجد میں پناہ گزین جنگجووں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں5 جنگجو مارے گئے تھے اور مسجد کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیرزون وجے کمار نے اس دن ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ آپریشن کے دوران مسجد کا احترام کرتے ہوئے کسی آئی ای ڈی، راکٹ لانچر یا دھماکہ خیز مواد کا استعمال نہیں کیا گیا اور مسجد میں آگ لگنی بھی نہیں دی گئی۔خیال رہے انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے اتوار کے روز وادی میں نئے بھرتی ہونے والے عسکریت پسندوں کے والدین سے کہا کہ وہ اپنے بچوں سے تشدد کی راہ ترک کرنے کے لئے مسلسل اپیل کریں۔انہوں نے کہاکہ والدین کو نئے بھرتی ہونے والے عسکریت پسندوں
کو واپس آنے کے لئے مستقل اپیلیں کرنا چاہئے۔ اپیلیں باقاعدگی سے کی جانی چاہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کو انکاونٹر میں پھنس جانے تک کا انتظار نہیں کرنا چاہئے بلکہ پہلے سے ہی تشدد کا راستہ ترک کرنے کی مسلسل اپیلیں کرنی چاہئے۔انہوں نے یہ پیغام سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی دیا۔آئی جی پی کشمیر کے یہ ریمارکس سنیچر کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ایک تصادم میں پھنسے ہوئے عسکریت پسندوں سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کے بعد آئے ہیں۔ اس مقابلے میں تین عسکریت پسند مارے گئے۔ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ فورسز نے انکاو¿نٹر کے دوران زیادہ سے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کیا اور تصادم کے مقام پر ایک نابالغ عسکریت پسند فیصل گلزار کے کنبہ کے افراد کو بلایا تاکہ اسے ہتھیار ڈالنے پر راضی کیا جاسکے۔تاہم، اس کے اہل خانہ کی بار بار اپیلوں اور سیکورٹی فورسز کی یقین دہانیوں کے باوجود دیگر عسکریت پسندوں نے اسے ہتھیار ڈالنے کی اجازت نہیں دی۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ گلزار نابالغ تھا اور اس نے حال ہی میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں