151

Street Talk گلی گلی میںبیداری

زاہدمشتاق
عام سی بات ہے کہ ٹھوکر لگ کرہی ایک انسان سنبھل جاتا ہے ،اورزخم کھاکر ہی ایک انسان کودوسروں کے دردوتکلیف کااحساس ہوجاتا ہے ۔اب اگرکوئی ٹھوکریا زخم کھاکر بھی نہ سنبھلے اورسدھرے تو ایک ہی بات کہی جاسکتی ہے کہ ایسا انسان سوجھ بوجھ سے عاری ہے ۔
کل کی بات ہے ،شام کے کوئی 9بجے کاوقت تھا،ایک مسجد کے باہرکچھ لوگ اسبات کولیکر آپسی گفتگو میں مصروف تھے کہ حکام نے آج بہت ساری مساجد میں نماز جمعہ باجماعت کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔کچھ لوگ اس اقدام کے طرفدار اورکچھ مخالف تھے ۔دونوں کے پاس اپنی اپنی دلیل یا بات تھی لیکن دونوں سوچ رکھنے والے کم سے کم اس بات پرمتفق تھے کہ کوروناایک عالمگیر وباءہی نہیں بلکہ ایک قدرتی آفت بھی ہے ۔
ایک شخص نے کہاکہ جب زلزلے کاجھٹکا لگ جاتا ہے تو ہم اللہ کانام لیتے لیتے گھروں سے باہر آجاتے ہیں کیونکہ ہمیں اسبات کابھرپور احساس ہے کہ زلزلے پرکسی انسان ،کسی حکومت یاکسی ٹیکنالوجی کاکوئی کنٹرول نہیں ،بلکہ اس کاریمورٹ کنٹرول اللہ تبارک وتعالیٰ کے پاس ہے ۔باقی لوگوں نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہاکہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ قدرتی آفات کے آگے انسان کی سوچ وسمجھ بے کار ہوجاتی ہے ،اورہرانسان خودکو اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم پرچھوڑ کر اُسی سے حفاظت کی اُمید رکھتا ہے ۔
ایک اورشخص جوباتوں سے کافی پڑھالکھا یا معلومات رکھنے والا نظرآتاتھا،نے کہاکہ کورونا وائرس کے بارے میں ہم سب سنجیدہ نہیں تھے ،اوریہی وجہ ہے کہ ہم نے ماسک کااستعمال کرنے میں حیلے بہانے تراشے،سماجی دوری کامذاق اُڑایا ،اورجسمانی فاصلہ قائم رکھنے کوبارگراں سمجھا ۔مذکورہ شخص نے کہاکہ کہتے ہیں کہ صبح کابولا شام کوگھرآئے تواُس کوبولا نہیں کہتے ،اسی کہاوت کے مصداق ہم سب پرذمہ دار ی عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنوں اورسماج کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کونبھانے میں کوئی عارمحسوس نہ کریں ۔
بحث میں شامل ایک اورشخص نے بتایاکہ ہرانسان کویہ سوچ کر حکومت کے احکامات اورطبی ماہرین کی ہدایات پرعمل کرنا چاہئے کہ ہم ایک مہذب سماج میں رہنے والے ہیں ۔اُس کاکہناتھاکہ میں صرف یہ مانتاہوں کہ میں خودپربھروسہ کرتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر پرعمل کرﺅں ،اورمجھے اسبات کوذہن نشین رکھنا پڑے گاکہ میں جس سے ملتاہوں ،کیا پتہ وہ احتیاطی کررہاہے کہ نہیں ۔
ایک دیندارشخص نے کہاکہ پاکستان کے ایک معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران کہا”حضرت بلال حبشی ؓ ایک مرتبہ نماز فجرکی اذان نے دی اورباہرشدیدبارش ہورہی تھی ،اذان مکمل ہوئی تو مسجد میں تشریف آوررسول رحمت ﷺ نے حضرت بلال حبشیؓ کوحکم دیاکہ اعلان کرﺅ ،کوئی فجر نماز ادا کرنے کیلئے مسجد نہ آئے ،بلکہ اپنے گھروں میں نماز اداکریں“۔
بحث کوسمیٹتے ہوئے ایک شخص نے کہاکہ حکومت یاحکام کوکوسنے سے بہتر ہے کہ ہم موجودہ صورتحال کی سنگینی کاخود سمجھیں اورتمام مقررہ احتیاطی تدابیر اوراصولوں کااحترام کریں ۔

(شایدکہ اُترجائے کسی دل میں میری بات)
آئیے کل کریں اسی حوالے سے کوئی اوربات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں