256

Street Talk خوف نہیں سمجھداری

زاہدمشتاق
ایک شخص دن بھر کی محنت مشقت سے شام کوگھرواپس پہنچا توبیوی نے کہاکہ ہمارے بیٹے نے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی ۔یہ سن کر یہ شخص بڑا خوش ہوا ،اوربیٹے کواپنے قریب لاکراُس کاماتھا چومنے لگا۔۔۔بیٹے نے روکتے ہوئے کہاکہ ابا ،آپ باہرسے آئے ہیں ،آپ نے کپڑے بدلے اورنہ ہاتھ دھوئے ۔۔۔یہ خطرناک ہے ۔۔کیونکہ کیا پتہ آپ دن کوکس سے ملے ہوں ،اورآپ کوکیا پتہ جن سے آپ ملے ،کہیں اُن میں سے کوئی کورونا وائرس میں مبتلاءتونہیں تھا۔۔۔
کمسن بیٹے کی بات سن کرباپ خاموش ہوگیا ۔۔۔اورنزدیک ہی بیٹھی بیوی نے شوہرسے مخاطب ہوکرکہاکہ ہمارے بیٹے میں کورونا کاخوف اورڈر ہے ،اسی لئے ایسی بات کہہ دی ۔۔۔شوہر نے بیوی کی بات کاٹتے ہوئے کہاکہ نہیں ہمارے بیٹے میں کوئی خوف یاڈر نہیں ہے بلکہ یہ سمجھدارہوگیا ہے ۔۔۔کیونکہ یہ جانتا ہے کہ خوداور اہل خانہ کوکورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے کیا احتیاطی تدابیر اپنائی جانی چاہیں ۔۔۔اُس نے بیوی سے کہاکہ میں منہ ہاتھ دھوکراورساتھ ہی کپڑے تبدیل کرکے آتاہوں ،تب تک آپ چائے بنائیں ۔۔۔میں بیٹے کیساتھ چائے پیوں گا۔۔اوراس کوانعام بھی دﺅنگا۔
منہ ہاتھ دھوکر اورکپڑے تبدیل کرکے جب وہ شخص واپس کمرے میں آیاتو اُس نے بیٹے سے پوچھا،آپ کویہ باتیں کہاں سے معلوم ہوئیں ۔۔بیٹے نے کہاکہ میں نے ایک ٹی وی چینل پرایک پروگرام دیکھا۔۔اُس نے کچھ بڑے ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ کورونا سے خودکوبچانے کیلئے کیا کرنا چاہئے ۔۔باپ نے پوچھا،،کیاکچھ کہا ڈاکٹروںنے ۔۔
بیٹے نے کچھ ٹھہر کرکہا۔۔۔گھرسے باہر قدم رکھتے ہی ماسک پہنیں۔۔باہر لوگوں سے دوری بنائے رکھیں۔۔کسی کے زیادہ قریب نہ جائیں ۔۔جسمانی فاصلہ قائم رکھیں۔۔۔آپ کوئی بھی کام کرتے ہوں ،کام کی جگہوں پرسماجی دوری اورجسمانی فاصلے کاخاص خیال رکھیں ۔۔آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہوں تووہاں پہنچ کر لازم سینٹائزر سے اپنے ہاتھ صاف کریں ۔۔اوراگر سینٹائزر دستیاب نہ ہو،،تو صابن سے اپنے ہاتھ ٹھیک سے دھوئیں۔
اب بیٹے نے باپ سے پوچھا،،آپ کورونا سے بچبنے کے بارے میں کیا جانتے ہیں ۔۔تو باپ نے کہاکہ ماہرین کے مشورو ں پرعمل کرناضروری ہے ۔سبھی احتیاطی تدابیر اورطے شدہ اصولوں کی پاسداری لازمی ہے ۔۔اوراس سے بڑھ کریہ کہ ہم کسی بھی مذہب کوماننے والے ہوں ،ہمیں اللہ کی بارگاہ میں سب کی حفاظت اور اس عالمگیر وباءسے نجات کی دعا کرنی چاہئے ۔
باپ نے 100کانوٹ اپنی جیب سے نکالتے ہوئے بیٹے سے کہا۔۔یہ آپ کاانعام۔۔بیٹے نے کہا۔۔آپ اس 100روپے کے ماسک خریدکراُن لوگوںدیں،جنہوںنے ماسک نہ پہنی ہو۔

(شایدکہ اُترجائے کسی دل میں میری بات)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں