589

اوڑی میں دراندازی کرکے اسپار داخل ہوئے جنگجوﺅں کیخلاف آپریشن

3عدم شناخت شدہ جنگجو رام پورسیکٹرمیں ہلاک
یواین آئی

سری نگر:۳۲،ستمبر:فوج نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک اوڑی کے ہتھ لنگو جنگلات میں دراندازی کرنے والے تین بھاری مسلح جنگجوﺅں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔سری نگر میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے اور کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے جمعرات کو یہاں بادامی باغ فوجی چھاونی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں کے ساتھ اس آپریشن کے متعلق تفصیلات شیئر کیں۔اوڑی میں آپریشن کی سرپرستی کرنے والے فوجی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر نے ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور مہلوک جنگجوﺅں سے برآمد ہونے والے اسلحہ و گولہ بارود اور دیگر سامان کی تفصیلات فراہم کیں۔مذکورہ کمانڈنگ آفیسر نے کہا: ‘جمعرات کی صبح ایل او سی پر تعینات ہمارے فوجیوں نے تین افراد کو بھارتی حدود میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔
طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں تین دہشت گرد مارے گئے’۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘مہلوک دہشت گردوں کے قبضے سے پانچ اے کے سیریز رائفلز، سات پستولیں، 24 یو بی جی ایل گرینیڈز، 38 چینی ساخت کے گرینیڈز، سات پاکستانی ساخت کے گرینیڈز، 35 ہزار روپے انڈین کرنسی کے نوٹ، 10 ہزار 300 روپے پاکستانی کرنسی کے نوٹ اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں برآمد کی گئی ہیں’۔لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے کہا کہ یہ 18 ستمبر کے بعد اوڑی میں جنگجوﺅں کی طرف سے دراندازی کی دوسری کوشش تھی۔انہوں نے کہا: ‘جہاں پچھلے کچھ ماہ سے دراندازی نہیں ہو رہی تھی وہیں سرحد پار لانچنگ پیڈز بھرے پڑے تھے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ موسم سرما شروع ہونے سے پہلے دراندازی کی کوششیں ہو سکتی ہیں’۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہمیں پچھلے کچھ ہفتوں سے لانچنگ پیڈ والے علاقوں میں غیر معمولی نقل و حرکت سے متعلق اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ لانچنگ پیڈز پر سرگرمیوں اور دراندازی پاکستانی کمانڈروں کے آشرواد کے بغیر ناممکن ہے’۔جی او سی نے کہا کہ مہلوک جنگجوﺅں کے قبضے سے کچھ دستاویزات برآمد ہوئے ہیں جن سے معلوم چلتا ہے کہ ان میں سے کم از کم ایک پاکستانی تھا۔تاہم ان کا ساتھ ہی کہنا تھا: ‘ویری فیکشن کے بعد ان کی شناخت کے بارے میں ہم کچھ وثوق سے کہہ سکتے ہیں’۔لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے کہا کہ مہلوک جنگجوﺅں کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحہ و گولہ بارود سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فدائین حملہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ یہاں مقامی نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کرانے کے لئے آ رہے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان یہاں پستولیں اور گرینیڈ کا استعمال عام کرنا چاہتا ہے’۔ضلع بارہمولہ کے اوڑی میں گزشتہ چند دنوں سے فوج کا بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن چل رہا تھا۔ اس دوران وہاں تین دنوں تک موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات بھی منقطع رکھی گئی تھیں۔مواصلاتی خدمات کی معطلی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی وجے کمار نے کہا: ‘ہمیں انٹرنیٹ اس لئے بند کرنا پڑا تاکہ جنگجو پاکستان یا کشمیر میں اپنے ہینڈلرز کے ساتھ رابطہ نہ کر سکے۔ سکیورٹی نقطہ نظر سے ایسا کرنا بہت ضروری تھا’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں