602

بین الاقوامی امن اور سلامتی کو درپیش چیلنج

سلامتی کونسل میں اصلاحات لازمی
جی 4 ممالک کے وزرائے خارجہ کامشترکہ بیان
نیوز مانٹرینگ

سری نگر:۳۲،ستمبر:بھارت ، برازیل ، جرمنی اور جاپان پرمشتمل گروپ 4 ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل اور غیر مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ کےلئے اصلاحات کا اعادہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ان ممالک نے کہا ہے کہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو درپیش چیلنجوں سے اچھی طرح نمٹا جا سکے۔جی 4ممالک نے
اس بات پرزوردیاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل اور غیر مستقل ارکان کی توسیع کےلئے اصلاحات کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر، برازیل کے وزیر خارجہ کارلوس البرٹو فرانکو ، جرمنی کے وفاقی وزیر خارجہ ہائیکو ماس اور جاپان کے وزیر خارجہ موتیگی توشیمیتشو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔اس کے بعد جی 4 ممالک کے مشترکہ پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک نے سلامتی کونسل کو مزید عقلی ، مو¿ثر اور سب کا نمائندہ بنانے کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ جی 4کے وزراءنے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل ارکان کی دونوں اقسام کی توسیع کے لیے اس میں اصلاح ضروری ہے۔تاکہ سلامتی کونسل پیچیدہ اور بدلتے ہوئے چیلنجوں سے بہتر طور پر نمٹ سکے اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے فرائض کو مو¿ثر طریقے سے انجام دے سکے۔جی4ممالک کے وزرائے خارجہ نے سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کے طور پر شامل ہونے کے لیے ایک دوسرے کی امیدواری کی حمایت بھی کی۔اس ملاقات کے بعد جی شنکر نے جی 4 وزرائے خارجہ کی تصویر ٹویٹ کی اور کہاکہ بھارت نے کثیرالجہتی اصلاحات کی ضرورت پر واضح پیغام بھیجا ہے اور مقررہ وقت کے اندر معنیٰ خیز نتائج کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ اس سال جنوری میں بھارت نے سلامتی کونسل میں دو سال کی مدت کے لیے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور اس کی مدت دسمبر 2022 میں ختم ہو جائے گی۔ بھارت نے اگست میں سلامتی کونسل کی صدارت کے عہدہ کو سنبھالا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں