647

پریس کونسل آف انڈیاکی حقائق کاپتہ لگانے والی 3 رُکنی کمیٹی

سری نگرمیں متعددصحافیوں سے ملاقی
میڈیا اداروں اورصحافیوںکودرپیش مشکلات کے بارے میں جانکاری حاصل
جے کے این ایس

سری نگر:۴۱،اکتوبر:پریس کونسل آف انڈیاکی حقائق کاپتہ لگانے والی تین رُکنی کمیٹی نے دوسرے روز سری نگرمیں پرنٹ ،الیکٹرانک اورسوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں ۔ان ملاقاتوں کے دوران پریس کونسل کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ارکان نے کشمیروادی میں میڈیا اداروں اورمیڈیا سے وابستہ افرادکودرپیش مشکلات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔معلوم ہواکہ کشمیر وادی کے تین روز دورے پرسوموار کوسری نگرپہنچنے والی پریس کونسل آف انڈیاکی حقائق کاپتہ لگانے والی تین رُکنی کمیٹی کیلئے دوسرا دن خاصامصروف رہا ۔سرکٹ ہاﺅس سری نگرمیںفیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے کنوینئروگروپ ایڈیٹردینک بھاسکرپرکاش دوبے کی سربراہی میں کمیٹی کے ارکان گربیر سنگھ (نیوانڈین ایکسپریس )اورڈاکٹر سمن گپتا(ایڈیٹرجن مورچہ)نے پرنٹ ،الیکٹرانک اورسوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں ۔حقائق کاپتہ لگانے والی کمیٹی کے ارکان نے ان ملاقاتوں کے دوران کشمیروادی میں میڈیا اداروں اورمیڈیا سے وابستہ افرادکودرپیش مشکلات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔کمیٹی سے ملاقی ہوئے مقامی اخبارات کے کچھ(۸پر)
مالکان ،مدیران ،صحافیوں اورنامہ نگاروںنے بتایاکہ انہوںنے کمیٹی کے سامنے میڈیا اداروں بالخصوص اخبارات کودرپیش مسائل ومشکلات اورانفرادی طورپر میڈیا سے وابستہ افرادکے مشکلات کواُجاگرکیا ۔انہوںنے سہ رکنی کمیٹی کے ارکان کوبتایاکہ کشمیر سے شائع ہونے والے بیشتر روزنامے،ہفتہ وار اور میگزینوںکے مالکان سخت مالی مشکلات کاسامنا کررہے ہیں ۔انہوںنے کمیٹی کویہ بھی بتایاکہ کشمیر میں میڈیا سے وابستہ افرادکوسخت مشکلات درپیش ہیں ،اوریہاں حکومتی یاانتظامی سطح پردرپیش مختلف نوعیت کے مسائل یامشکلات کی کوئی سنوائی نہیں ہوتی ہے ۔کچھ اخبارات کے مالکان نے محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کی جانب سے اخبارات کوفراہم کئے جانے والے اشتہارات کی تقسیم کے طریقے کارپر ناخوشی کااظہارکرتے ہوئے پریس کونسل آف انڈیاکی مخصوص کمیٹی کے ارکان کوبتایاکہ اشتہارات کی فراہمی یاتقسیم کاری کویہاں کچھ ہی اخبارات کوفائدہ حاصل ہے جبکہ باقی تمام اخبارات کی اس حوالے سے حوصلہ شکنی ہورہی ہے ۔انہوںنے کمیٹی کویہ بھی بتایاکہ اشتہارات کی تقسیم کاری یافراہم کی غیرمتوازن اورغیر منصفانہ پالیسی یاطریقہ کارنے چھوٹے کہلائے جانے والے اخبارات کوسخت مالی بحران سے دوچار کردیاہے اورایسے اخبارات کے مالکان بمشکل اپنے اخراجات کوپورا کرپارہے ہیں ۔کمیٹی سے ملاقی ہوئے کچھ صحافیوںنے بتایاکہ ملاقات کے دوران فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ارکان نے اسبات کایقین دلایاکہ وہ یہاں سے حاصل ہونے والی جانکاری کومرکزی سرکارکی وزارت برائے اطلاعات ونشریات کی نوٹس میں لائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں