Editorial

۔۱۴؍ فروری ۲۰۱۸ء*بروزبدھوار
مودی سرکارکی خارجہ پالیسی ۔۔؟
ہندوستان میں موجودہ ماحول ناقابل اصلاح خرابیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس میں سیاسی تنازعات کی نوکیلی کرچیوں کا فرش بچھا ہوا ہے۔ عام انتخابات کا وقت قریب آنے سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط و مستحکم بنانے کی اہم کوشش کی ہے۔ ان کے حالیہ دورہ مشرق وسطی کو عالمی سطح پر قریب سے دیکھا گیا۔ خاص کر فلسطین کا دورہ وزیراعظم ہند مودی کی خارجہ پالیسی میں ایک مخصوص ہوم ورک کا مظہر سمجھا گیا ہے۔ وزیراعظم ہندنے نئی خارجہ پالیسی کے حصہ کے طور پر فلسطین کا 2 روزہ دورہ کیا۔ ہندوستانی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ تھا، خاص کر مشرق وسطی میں نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت ہند نے خلیج میں ہندوستان کے ہمسایہ ملکوں تک رسائی حاصل کرنے میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا ہے،جہاں ہندوستان کے قیمتی مفادات پائے جاتے ہیں۔ نریندرمودی نے غیر معمولی طور پر اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں برابری کا ثبوت دیتے ہوئے ایک بہترین توازن کے ساتھ صدر فلسطین محمود عباس سے ملاقات کی۔ اس سے قبل مودی نے جون 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور اس دورہ کے دوران وہ فلسطین نہیں گئے تھے۔ اب فلسطین کا دورہ کرتے ہوئے مودی نے اسرائیل کی جانب توجہ نہیں دی جب کہ مودی نے یہ دورہ وزیراعظم اسرائیل بنجامن نیتن کے دورہ ہند کے فوری بعد کیا ہے۔ مشرق وسطی کے حساس مسائل میں فلسطین کے کاز کو ہندوستان ہمیشہ اہمیت دیتا رہا ہے اورنریندر مودی نے بھی ہندوستان کے موقف میں کسی قسم کی کمی آنے کی گنجائش کا موقعہ نہیں دیا۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل اور فلسطین کے دو علحدہ مقام کا اشارہ دیتے ہوئے نریندر مودی نے فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے دیرینہ روایتی تعلقات کو ختم نہ کرنے کا ثبوت دے کر اپنی متوازن خارجہ پالیسی کو واضح کردیا۔ حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں مضبوطی آئی ہے۔ باہمی تعلقات میں غیرمعمولی طور پر اضافہ ہوا ہے اور دونوں ملکوں کی جانب سے ملکردفاعی و سلامتی معاملوں پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سائنس ، ٹکنالوجی زرعی اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جیسے شعبوں میں معاہدوں کے باوجود فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے معاشی تعاون اور ترقیاتی کاموں میں ہاتھ بٹانے کے علاوہ دو قومی حل نکالنے کے لئے اپنی سیاسی تائید کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا جانا ہندوستان کی فلسطینیوں کے ساتھ دیرینہ دوستی کا مظہر ہے۔ ہندوستان نے مشرق وسطی میں اپنے رول کو عالمی سطح پر بھی واضح کیا ہے۔ خاص کر بیت المقدس( یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے جاری کردہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرار داد کی بھی ہندوستان نے حمایت کی تھی اور اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ 
وزیراعظم مودی کے اس سہ قومی مشرق وسطی دورہ میں اردن کے شاہ عبداللہ ثانی سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔ متحدہ عرب امارات اور عمان کا دورہ بھی تاریخی اہمیت کا حامل بن گیا۔ ہندوستان میں انفراسٹرکچر یعنی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے میں خلیجی ملک متحدہ عرب امارات کی دلچسپی قابل قدر ہے۔ ولی عہد شہزادہ ابوظہبی محمد بن زائد النہیان نے مودی کے ساتھ وسیع تر باہمی مذاکرات کے ذریعہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اطمینان رول ادا کیا ہے۔ خلیجی ممالک میں ہندوستانی باشندوں کی کثیر تعداد روزگار سے منسلک ہے اور تمام تر احترام ان ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے بہتر تعلقات سے ہوتا ہے۔ نریندرمودی حکومت کو ان ملکوں میں اپنی پالیسی میں فعالیت لانے کا اہم موقع ہے۔ جس کو وزیراعظم ہند بخوبی طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی ہے۔ خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت معقولیت کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مودی سرکارجنوب ایشیائی خطے پرتوجہ مرکوزکرکے قریب ترین ہمسایہ ملک پاکستان کیساتھ بھی تعلقات کوبہترکرنے کی کوشش کرے گی ۔سیاسی تجزیہ نگاراورسیاسی نقادکہتے ہیں کہ جب تک کسی بھی ملک کی اندرونی اورگردونواح کی صورتحال بہترنہ ہوتک تک یہ ملک دنیامیں اپنی کوئی بات بہترطورپرنہ پیش کرسکتاہے اورنہ منواسکتاہے ۔بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی میں یہی نقص یاخامی پائی جاتی ہے کہ اس میں جہاں امریکہ ،مغربی اورعرب ممالک کیساتھ تعلقات کومضبوط بنانے کی پہل کی گئی ہے ،وہیں پاکستان اورچین جیسے ہمسایہ ممالک کیساتھ مودی سرکارنے مخاصمانہ یاٹکراؤ کی پالیسی جاری رکھی ۔سیاسی تجزیہ نگاروں اورموجودہ مرکزی سرکارکے مخالفین ونقادوں کامانناہے کہ بھاجپاسرکارکی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اس کونہ چاہتے ہوئے بھی آرایس ایس اوردوسری بنیادپرست ہندؤتنظیموں کی ہدایات اورتجاویزکومختلف سطحوں پرعملاناپڑتاہے ،اوریہی وجہ ہے کہ واجپائی کی سربراہی والی مرکزی سرکارکی برعکس مودی کی زیرقیادت موجودہ مرکزی حکومت کے بارے میں پاکستان اورچین سمیت بیشترہمسایہ ممالک میں خدشات پائے جاتے ہیں ۔سیاسی ماہرین کامانناہے کہ اب جبکہ اگلے سال بھارت میں لوک سبھاکے انتخابات ہونے والے ہیں تومستقبل قریب میں مرکزی سرکارکی ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے تئیں سخت یامخاصمانہ خارجہ پالیسی میں کسی تبدیلی کاامکان نہیں ،اوریہ صورتحال سال2019تک اس پورے خطے کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔

Marquee Powered By Know How Media.
Follow by Email
Facebook
Facebook
Google+
Twitter
YOUTUBE