نئی دہلی میںمرکزی وزیر داخلہ کی زیرصدارت کئی ہنگامی میٹنگیں

کشمیرکی تازہ صورتحال کااحاطہ
لائن آف کنٹرول پر فوج کی تعیناتی پر بھی گفت وشنید
نیوزمانٹرینگ

سرینگر :۴، اگست //جموں وکشمیرکی تازہ حالات پرمرکزی حکومت کی مسلسل نظربنی ہوئی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایک کے بعد ایک میٹنگ کررہے ہیں۔ اتوارکوسب سے پہلے امت شاہ نے سینئر افسران کےساتھ ہائی لیول کی میٹنگ کی۔ میٹنگ ختم ہونے کے فوراً بعد ہی مرکزمیں جموں وکشمیرڈویڑن کے ایڈیشنل سکریٹری گیانیش کمارامت شاہ سے ملنے پہنچے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے پہلے قومی سلامتی کے مشیراجیت ڈوﺅل،مرکزی داخلہ سکریٹری راجیوگوبا، آئی بی چیف اروند کماراور’را‘ چیف سامنت کمارگویل کے ساتھ میٹنگ کی۔میڈیارپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران ریاست خاص کرو ادی کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر مرکزی وزیر داخلہ کو جانکاری فراہم کی گئی کہ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر اضافی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق میٹنگ کے دوران مرکزی وزیر داخلہ کو کنٹرول لائن کی صورتحال پر بھی مکمل جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتا گیا کہ پچھلے2 روز سے پاکستانی رینجرس کی بارڈرایکشن ٹیم نے12مرتبہ دراندازی کرنے کی کوشش کی تاہم مستعد فوجی اہلکاروں نے جنگجوﺅں کے منصوبوں کو ناکام بنایا جس دوران کیرن سیکٹر میں 10ملی ٹنٹ اورپاکستانی این ایس جی کمانڈوز ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور پاکستانی رینجرس کی منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے خاطر اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ فوج کو جدید اسلحہ سے بھی لیس کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ نے آفیسران کو بتایا کہ عسکریت پسندوں اور پاکستانی رینجرس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی مرکزی حکومت کشمیر میں امن و شانتی بنائے رکھنے کی خاطر کئی سطحوں پر کام کررہی ہے
۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے ایک دو روز میں کشمیر کے حوالے سے اہم فیصلے لینے کا امکان ہے ۔ تاہم مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ مین اسٹریم پارٹیوں کی جانب سے ہو رہا ہے کیونکہ مذکورہ پارٹیوں نے افواہیں پھیلا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہو گئے ہیں۔

فاروق عبداللہ کی زیرصدارت کل جماعتی اجلاس

خصوصی پوزیشن کے دفاع کے لئے متحد ہونے کا اعلان
یو این آئی

سری نگر، ۴، اگست : جموں وکشمیر کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس نے ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے دفاع کے لئے متحد ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان جماعتوں نے کہا کہ آئین میں کسی بھی طرح کی ترمیم، دفعہ 35 اے یا دفعہ 370 کی منسوخی، غیر آئینی حد بندی یا تقسیم جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔کشمیر میں حکومت کے اقدامات سے پیدا شدہ پ±ر تناﺅ صورتحال کے بیچ اتوار کی شام یہاں نیشنل کانفرنس صدر و
سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی میں ک±ل جماعتی اجلاس منعقد ہوا جس میں ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر فاروق عبداللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتیں جموں وکشمیر کی شناخت، اٹانومی اور خصوصی پوزیشن کے دفاع کے لئے متحد ہیں اور کسی بھی حملے کے خلاف متحد ہوکر لڑیں گی۔انہوں نے کہا کہ آئین میں کسی بھی طرح کی ترمیم، دفعہ 35 اے یا دفعہ 370 کی منسوخی، غیر آئینی حد بندی یا تقسیم جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ ک±ل جماعتی اجلاس میں شرکت کرنے والی جماعتوں نے فیصلہ لیا کہ صدر جمہوریہ، وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران کے ساتھ ملاقات کی کوششیں کی جائیں گی تاکہ انہیں موجودہ صورتحال اور ریاست کو ریاست اور ملک کے آئین کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔انہوں نے ریاستی عوام سے اپیل کی کہ وہ امن بنائے رکھیں اور موجودہ صورتحال میں صبر کریں۔ انہوں نے پڑوسی ممالک ہندوستان اور پاکستان سے بھی اپیل کی کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تناﺅ میں اضافے کا سبب بنے۔انہوں نے کہا: ‘میں تمام جماعتوں کی طرف سے جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر حالت میں یہاں امن بنائے رکھیں اور صبر کریں۔ ہمیں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے یہاں کے امن میں خلل پیدا ہو۔ میں ہندوستان اور پاکستان سے بھی یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تناﺅ میں اضافہ ہو۔ تناﺅ میں اضافے سے دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا’۔ک±ل جماعتی اجلاس کی صدارت فاروق عبداللہ نے کی جبکہ پی ڈی پی کی طرف سے محبوبہ مفتی، مظفر حسین بیگ، عبدالرحمان ویری اور سہیل بخاری، پیپلز کانفرنس کی طرف سے سجاد غنی لون، عمران رضا انصاری اور عبدالغنی وکیل، کانگریس کی طرف سے تاج محی الدین، سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی، نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ، اراکین پارلیمان جسٹس حسنین مسعودی و محمد اکبر لون، ناصر اسلم وانی، علی محمد ساگر، پیپلز یونائیٹڈ فرنٹ کے شاہ فیصل و عزیر رونگا اور اے این سی کے مظفر احمد شاہ نے اس میں شرکت کی۔بتادیں کہ جموں وکشمیر حکومت نے جمعہ کے روز ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں وادی کشمیر میں موجود امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کو فوراً سے پیشتر واپس چلے جانے کے لئے کہا گیا۔ ایڈوئزری میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ یاترا کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم وادی کشمیر میں لوگوں کو خدشہ ہے کہ مرکزی حکومت کوئی کشمیر مخالف اقدام اٹھانے والی ہے۔

ہماری اپیلوں منتوں کاحکومت ہندپرکوئی اثر نہیں

۔35یا 370 کےساتھ چھیڑ چھاڑکے ٹھیک نہیں ہوں گے:محبوبہ مفتی
یو این آئی

سری نگر، ۴، اگست: پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پاکستان کے الزام کہ ہندوستانی فوج نے ایل او سی کے نزدیک وادی نیلم میں کلسٹر بموں کا استعمال کیا ہے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام تو اسرائیل کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان گاندھی کا ہندوستان ہے اور اس کی جانب سے قطعی طور پر کلسٹر بموں کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔محبوبہ مفتی نے اتوار کے روز یہاں نامہ نگاروں کو بتایاکہ ہمیں لگتا ہے کہ خدانخواستہ جو جموں وکشمیر پر اس وقت آفت طاری ہورہی ہے اس مصیبت سے شاید کوئی اور مصیبت نہیں ہوسکتی۔ سرحدوں پر گولہ باری جاری ہے اور ہم نے سنا کہ کئی شہری مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے سنا کہ کلسٹر بموں کا بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ بہت برا ہے۔ یہ کام تو اسرائیل کا ہے۔ ہمارا ملک تو گاندھی کا ملک ہے۔ یہاں یہ کام نہیں ہوتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ اگر ہورہے ہیں تو یہ بہت برا ہے۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے کوئی کشمیر مخالف اقدام اٹھایا تو اس کے خطرناک
نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ہمیں بتائیں کہ وہ یہاں کیا کرنے والے ہیں؟ کوئی کچھ بتاتا ہی نہیں ہے۔ یہاں لوگوں میں گھبراہٹ ہے۔ ہم نے آج سے 70 سال قبل مشکلات کے باوجود اتنے بڑے ملک کے ساتھ کچھ سوچ سمجھ کر ہاتھ ملایا، لیکن آج ہمارے ساتھ یہ سب کچھ ہورہا ہے تو میرا ماننا ہے کہ اس کے نتائج پورے ملک اور برصغیر کےلئے خطرناک ہوں گے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جہاں اس وقت کشمیر میں سارا ماحول بگڑا ہوا ہے وہیں مرکزی حکومت اپنی خاموشی نہیں توڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم تمام جماعتوں نے مل کر پورے ملک اور سرکاروں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اگر دفعہ 35 اے یا دفعہ 370 کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں گے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے اور کتنے خطرناک ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپیلیں اور منتیں کیں لیکن حکومت ہندوستان کی طرف سے کوئی جواب ہی نہیں آرہا ہے۔ جموں وکشمیر میں اس وقت سارا ماحول بگڑا ہوا ہے۔ لوگ گبھرائے ہوئے ہیں۔ محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ حکومت ہندوستان پر کوئی اثر ہی نہیں ہے۔ کوئی کم از کم منہ کھول کر بتائیں کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ ریاست کی تمام جماعتیں مل بیٹھ کر آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج ہم تمام جماعتوں پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پییپلز کانفرنس اور دوسری جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم کہیں مل بیٹھ کر آپس میں بات کریں گے۔ ہم نے کل جماعتی اجلاس کے لئے ایک ہوٹل کا انتخاب کیا تھا لیکن میں نے سنا کہ پولیس نے تمام ہوٹلوں کو ایڈوائزری جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے ہوٹلوں میں میٹنگ کرنے نہیں دیں گے۔ اس کو دیکھتے ہوئے اب یہ میٹنگ میرے گھر پر ہوگی۔ میری فاروق صاحب سے بات ہوئی۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عمر صاحب اجلاس میں شرکت کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھاکہ مجھے لگتا ہے کہ اس وقت جموں وکشمیر کے لوگوں کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ یہاں کی مین اسٹریم، علاحدگی پسند و مذہبی جماعتیں، سول سوسائٹی و ٹریڈ یونین گروپ متحد ہوکر ملک کو بتائیں کہ آپ جو کرنے جارہے ہیں اس کے نتائج آج نہیں تو آنے والے وقت میں اتنے خطرناک ہوں گے کہ شاید نہ صرف جموں وکشمیر یا ملک بلکہ پورا برصغیر اس کی لپیٹ میں آئے گا۔

انجینئر رشید پوچھ تاچھ کےلئے نئی دہلی طلب

این آئی اے کی کارروائی سیاسی انتقام گیری: شاہ فیصل
کے این ایس

سرینگر:۴ ، اگست قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید کے نام سمن جاری کرتے ہوئے انہیں نئی دہلی طلب کیا ۔ معلوم ہوا کہ این آئی اے عوامی اتحاد پارتی کے سربراہ سے فنڈنگ کے معاملے پر پوچھ کرنا چاہتی تھی۔ اُدھر پیپلز یونائیٹڈ فرنٹ نے قومی تحقیقاتی ایجنسی کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے منصوبہ بند پروگرام کے تحت سیاسی لیڈران کو ہراسان کرنے کی کارروائی قرار دیا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور سابق ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید کے نام سمن جاری کرتے ہوئے اُنہیں پوچھ تاچھ کےلئے نئی دہلی طلب کیا۔ سابق ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے معاملے کو اُس وقت عوام کی نظروں میں لایا جب انہوں نے اس کی اطلاع سماجی رابطہ سائٹ فیس بک پر ڈالی۔اپنے فیس بک پوسٹ میں انجینئر رشید کا کہنا تھا کہ این آئی اے نے انہیں اتوار کے روز پوچھ تاچھ کےلئے نئی دہلی طلب کیا ہے۔ ادھر پیپلز یونائٹیڈ فرنٹ نے این آئی اے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی لیڈران کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے منصوبہ بند پروگرام سے تعبیر کیا۔ پی یو ایف کے لیڈر ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید کو پوچھ تاچھ کےلئے نئی دہلی طلب کرنا مذموم عمل ہے جس کا مقصد یہاں کے سیاسی لیڈران کوجان بوج کر ہراساں اور خوفزدہ کرنا ہے۔شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ سابق ممبر اسمبلی لنگیٹ ایک عوامی لیڈر اور عوام کی آوا ز ہے اور ایسے وقت میں جب کشمیر پر کئی مصیبتیں آن پڑی ہے، مذکورہ لیڈر کو پوچھ تاچھ کے بہانے طلب کرنا ان کی سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ انجینئر رشید عوامی شخصیت ہے جو ہر ایک حلقے میں متعارف ہے۔موصوف بے باک اور صاف گو لیڈر ہے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے منفرد مو¿قف رکھتے ہیں تاہم ان کی سیاسی سرگرمیوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ نئی دہلی میں بیٹھے لوگوں کے مفاد لڑکھڑاگئے ہیں۔ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک عوامی لیڈر جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر سامنے آچکا ہے ، کےساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے جو بہت ہی نارروا اور غیر مہذبانہ ہے۔پی یو ایف لیڈر ڈاکٹر شاہ فیصل نے مطالبہ کیا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کو چاہیے کہ وہ موصوف سے پوچھ تاچھ کا عمل فی الفور مکمل کرکے انہیں سرینگر واپس بھیجے کیوں کہ ان کی غیر موجودگی سے کشمیر کی سیاست کے اندر ایک خلا پید اہوا ہے۔

انسدادکورپشن بیورو کا محبوبہ مفتی کو نوٹس

جے کے بینک میںسفارشی تقرریوں پر وضاحت طلب
نوٹس سے کوئی حیرانی نہیں،حربے کامیاب نہیں ہونگے:سابق وزیراعلیٰ
یو این آئی

سری نگر:۴،اگست: جموں وکشمیر میں اینٹی کرپشن بیورو نے پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو ایک نوٹس بھیجا ہے جس میں ان سے جموں وکشمیر بنک میں اُن کے دور حکومت میں ہونے والی کچھ سفارشی تقرریوں کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ کیا ان سفارشی تقرریوں کو آپ کی توثیق حاصل تھی یا نہیں’۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے محبوبہ مفتی کو یہ نوٹس ایک ایسے وقت میں بھیجا گیا ہے جب محبوبہ مفتی کشمیر میں وقوع پذیر ہونے والی پیش رفتوں کے تناظر میں ریاست کی علاقائی جماعتوں کو ایکپلیٹ فارم پر لانے کی کوششوں میں بہت زیادہ مصروف ہیں۔دریں اثنا محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اینٹی کرپشن بیورو کے نوٹس سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اینٹی کرپشن بیورو کے خط سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ مین اسٹریم لیڈران کے حوصلوں کو پست اور اجتماعی ردعمل کو ناکام بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ یہ حربے کامیاب نہیں ہوں گے۔اینٹی کرپشن بیورو کشمیر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی جانب سے محبوبہ مفتی کے نام نوٹس 3 اگست کو جاری کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس اینٹی کرپشن بیورو میں درج ایک ایف آئی آر کی تحقیقات کے حصے کے طور پر بھیجا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق جموں وکشمیر بنک کے سابق چیئرمین نے کچھ تقرریاں بعض وزراءکی سفارشات پر عمل میں لائی تھیں۔

کشمیری عوام گھبرانے کے بجائے

حوصلوں کو بلند رکھیں: میرواعظ
یو این آئی

سری نگر، ۴، اگست:حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے وادی کشمیر میں پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کشمیری عوام سے گھبرانے کے بجائے حوصلوں کو بلند رکھنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے اتوار کی شام ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام نے ہمیشہ ہر قسم کے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور اب کی بار بھی اللہ کی نصرت و تائید سے موجودہ حالات کا ہمت و حوصلے کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ گھبرانے کے بجائے حوصلوں کو بلند رکھیں۔ اللہ کی ذات پر بھر پور توکل اور بھروسہ رکھ کر اجتماعیت کا مظاہرہ کریں۔بتادیں کہ جموں وکشمیر حکومت نے جمعہ کے روز ایک ایڈوائزریجاری کی جس میں وادی کشمیر میں موجود امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کو فوراً سے پیشتر واپس چلے جانے کے لئے کہا گیا۔ ایڈوئزری میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ یاترا کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم وادی کشمیر میں لوگوں کو خدشہ ہے کہ مرکزی حکومت کوئی کشمیر مخالف اقدام اٹھانے والی ہے۔

خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی

کسی بھی کوشش کا مقابلہ کیا جائےگا: عمر
نیوزسروس

سری نگر، ۴، اگست :نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے اور 370 کو زک پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی کیونکہ یہی وہ واحد عوامی نمائندہ جماعت ہے جو لوگوں کے مفادات اور احساسات کے تحفظ کے لئے ہمیشہ سب سے آگے کھڑی رہی ہے۔ مرکز کو چاہئے کہ حالات بگاڑنے کے بجائے جموں وکشمیر کے لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ حاصل کرنے کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے چاہیں۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان کے مطابق یہ باتیں پارٹی کی سیاسی امور کی کمیٹی کی میٹنگ میں کہی گئیں۔ اتوار کو ہونے والی اس میٹنگمیں کمیٹی سے وابستہ ریاست کے تینوں خطوں کے 22 ممبران نے شرکت کی۔ میٹنگ کی صدارت پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ نے کی۔چار گھنٹے طویل میٹنگ میں ریاست کی موجودہ صورتحال خصوصاً زمینی سطح پر پائی جارہی بے چینی، خوف و ہراس اور غیر یقینیت کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا گیا۔ اس دوران حالیہ دنوں میں نیشنل کانفرنس کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی اجلاس کو باخبر کیا گیا۔اجلاس کو وزیر اعظم کے ساتھ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں ملاقی ہوئے وفد کی طرف سے وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے نکات اور وزیرا عظم کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کے علاوہ پارٹی کے رکن پارلیمان کی طرف سے لوک سبھا میں موجودہ حالات کے تناظر میں اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔اس کے علاوہ اجلاس کو پارٹی وفد کی گورنر سے ملاقات اور گورنر کی طرف سے دی گئی یقین دہانیوں سے بھی باخبر کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل کانفرنس ریاست کے مفادات کے دفاع کے لئے کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کررہی ہے اور ہماری جماعت ہر سطح اور ہر سٹیج پر برسر جہد ہے۔اس دوران اس بات کی بھی جانکاری دی گئی کہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ناساز طبیعت ہونے کے باوجود ملک کی اپوزیشن لیڈران کے ساتھ گذشتہ دنوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے دفاع میں اپنا رول نبھانے کے لئے قائل کررہے ہیں۔اجلاس میں مرکزی حکومت پر زور دیا گیا کہ ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریز کیا جائے جس سے یہاں کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچنے اور آگ لگنے کا احتمال ہو۔ اس دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نیشنل کانفرنس ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے لئے کوئی بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گی۔اجلاس میں پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدور دیوندر سنگھ رانا، ناصر اسلم وانی، اراکین پارلیمان محمد اکبر لون، جسٹس حسنین مسعودی، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، چودھری محمد رمضان، میاں الطاف احمد، نذیر احمد خان گریزی، سجاد احمد کچلو، سکینہ ایتو، مبارک گل، آغا سید روح اللہ مہدی، شمی اوبرائے، اجے سدھوترا، جاوید رانا، ایس ایس سلاتیہ، میر سیف اللہ اور حاجی حنیفہ جان موجود تھے۔

پونچھ اور راجوری میں

رپڈ ایکشن فورس کا فلیگ مارچ
یو پی آئی

سرینگر:۴، اگست //پونچھ ضلع میں رپڈ ایکشن فورس تعینات کرنے کے بیچ پولیس آفیسران کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران لوگوں سے امن و امان بنائے رکھنے کی تلقین کی گئی۔ راجوری اور پونچھ اضلاع میں رپڈ ایکشن فورس کو تعینات کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پھیل گیا ہے۔ ضلع میں امن و قانون کو بنائے رکھنے کی خاطر پولیس آفیسران کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران لوگوں سے تلقین کی گئی کے کہ وہ امن و امانکی خاطر پولیس کو ہر سطح پر تعاون فراہم کریں۔میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ لوگوں کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر ہی اضافی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ نمائندے کے مطابق رپڈ ایکشن فورس ، سی آر پی ایف اور آئی ٹی بی پی نے دن بھر پونچھ کے کئی علاقوں میں فلیگ مارچ کیا جس دوران امن و شانتی برقرار رکھنے کی لوگوں سے تلقین کی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ پونچھ اور راجوری اضلاع میں امن و شانتی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کی خاطر ہر سطح پر اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اضلاع میں اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ ذی عزت شہریوں کو بھی امن و قانون بنائے رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

کیرن سیکٹرمیں گھمسان

جھڑپ میں 7جنگجوہلاک
کے این ایس

کپوارہ:۴، ، اگست شمالی کشمیرکے ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک کیرن سیکٹر میںفوج نے 7 جنگجوﺅں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جو وادی کشمیر میں امر ناتھ یاترا پر حملہ کرنے اور امن کو درہم برہم کرنے کی تاک میں بیٹھے تھے ۔ اس دوران فوج کے سرینگر میں مقیم ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ فوج کی بارڈر ایکشن ٹیم نے علاقے میں گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران متعدد در اندزی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے تاکہ امن اور سکون کے ماحول کو خراب نہ
کیا جا سکے ۔ شمالی کشمیر ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول کے نذدیک سنیچر کی شام دیر گئے بارڈر ایکشن فورس (بی اے ٹی) نے پاکستان کی طرف سے آئے ہوئے جنگجوﺅںکے ایک گرپ کو وادی میں دراندازی کی کوشش کے دوران دیکھا اس دوران فوج نے فوری طور کاروائی کرتے ہوئے ان کی کوشش کو ناکام بنانے کی غرض سے انہیں اس طرف نہ آنے کی کوشش کی ہے جس نتیجے میں جنگجوﺅں اور فوج کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جو رات دیر گئے تک جاری رہا ہے۔ جس میں ابتدائی طور اُس پار سے اس پار داخل ہونے والے 7دراندازوں کو مارا گرانے کا فوج نے دعویٰ کیاہے ۔جبکہ علاقے میںفائرنگ کا سلسلہ جارہی تھا ۔ دفاعی ذرایع نے بتایا علاقے میں درانادزی کی کوششیں جاری ہے جن کو فوج نے منہ توڈ جواب دیکر ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا یا انہوںں نے بتایا جو دراندز اس طر ف داخل ہوئے تھے انہیں موقعے پر ہلاک کیا گیا ہے“۔سرینگر میں مقیم دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے میڈیا کو بتایا کہ علاقے میں گزشتہ36کے دوران دراندازی کی متعدد کوشیں ہوئی ہیں جن کو بارڈر ایکشن ٹیم (بی اے ٹی ) نے ناکام بنا دیا ہے ۔ترجمان نے مذید بتایا وادی کشمیر میں امن کو درہم برہم کرنے کے علاوہ امر ناتھ یاترا اور سیاحوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے گزشتہ شام سے متعدد کوششیں کی گئی ہیں جن کو باڈر ایکشن فورس نے ناکام بنا دیا ہے اور اس طرح سے انہیں یہاں کے پر امن ماحول کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔فوجی ترجمان نے مذید بتایا کہ جمعہ اور سنیچر کووادی کشمیرمیں مختلف علاقوں میں4جیش جنگجوﺅں کوجاں بحق کیا گیا ہے جبکہ مارے گئے جنگجوﺅں کے قبضے سے پاکستانی اسلحہ اور گولہ بارود ضبط کیا گیا ہے جن میں سنیپر رائفل ،بارود سرنگ وغیرہ قابل ذکر ہیں انہوں نے بتایا سے چیزوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر میں جنگجوئیت میں پاکستان کا ہاتھ ہے انہوں نے بتایا فوج ہر ایک کاروائی کا مُنہ توڑ جواب دے رہا ہے ۔قابل ذکت بات یہ ہے جمعہ کو جی او سی ویکٹر فورس لفٹنٹ جنرل کے جے ایس دہلن پرس کانفرنس میں بتایا تھا جنگجوﺅںکے دراندازی کے حوالے سے ایک پرس کانفرنس بھی دی تھی ۔خیال رہے وادی کشمیر میں سرکار کی جانب سے امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں پر حملوں کے اطلاعات موصول ہونے کے بعد انہیں فوری طور اپنا دورہ وادی کو ختم کر کے فوری طور وادی سے واپس جانے کے لئے کہا گیا ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔ جس کے نتیجے میں وادی کی عوام میں سیاحوں کو نکالنے اور دیگر طرح کے خدشات کے پیش نظر عوام میں سخت بے چینی او
ر اضطراب پیدا ہوا ۔

فرکیاں گلی کپوارہ میں درزی کی دکان کے باہر زوردار دھماکہ

شہری جاں بحق ، تلاشی کے دوران 15 ہتھ گولے دکان سے ضبط ، ٹیلر گرفتار
کے این ایس

کپوارہ:۴ ، اگست شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے کیرن علاقے میںکنٹرول لائن کے نزدیک فرکین گلی علاقے میں ایک درزی کے دکان کے باہر ایک زوراد دار دھماکہ ہوا جس میں ایک عام شہری جاں بحق ہوا ۔ اس دوران پولیس نے واقعے کے بعدجائے واردات کے جگہ کی تلاشی لی ہے جس دوران درزی کے دکان سے 15 گرینیڈ برآمد ہوئے ہیں ۔ اس دوران پولیس نے درزی کو پوچھ تاچھ کے لئے گرفتار کر لیا ہے ۔ ادھر گزشتہ روز کرناہ علاقے میںاسی طرح کی ایک واردات میں 45 سالہ شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دیا ہے ۔ شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میں کنٹرول لائن کے نذدیک واقع معروف پہاڑی فرکین گلی علاقے میں اتوار کے صبح اس وقت خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا جب علاقے میں ایک درزی کے دکان کے باہر ایک پر اسرار دھاکہ ہوا جس میں ایک شہری عبدالحمید بجاڈولد جیلانی بجاڑ ساکن فرکین شدید زخمی ہواجس کو فوری طور علاج معالجے کے لئے اسپتال منتقل ،کیا گیا ہے تاہم اسپتال میں داخل کرنے کے ساتھ ہی ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا ہے ۔اسدوران واقعے کے فوراً بعد پولیس کی ایک پارٹی جائے واردات پر پہنچی جہاں انہوں نے تلاشی کاروائی کے دوران 15زندہ گرنیڈبرآمد کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ درزی پرویز خواجہ کو حراست میں لے کران سے پوچھ تاچھ شروع کر دی ہے ذرائع نے بتایا گرنیڈوں کی برآمد گی کو کو فورسز ایک بڑی کامیابی مانتے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگار طاریق راتھر نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ علاقے میںشہری کی ہلاکت کے ساتھ ہی کہرام مچ گیا جبکہ لوگ زبردست خوف و دہشت میں مبتلا ہوئے ۔لواحقین نے سرکار سے دھماکے اور ہلاکت کے نسبت تحقیقات کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا ءپولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا۔خیال رہے مزکورہ سرحدی علاقے میں گزشتہ روز بھی کرناہ میں ایک پر اسرا ر دھماکے میں ایک45سالہ جو مویشیوں کو چروا رہا تھا جاں بحق ہوا ۔

اسلامک یونیورسٹی میں

ہوسٹلوں کو خالی کیا گیا
طلبا کو گھر جانے کی صلاح
یو پی آئی

سرینگر :۴، اگست //اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کے ہوسٹلوں کو خالی کیا گیا گیا ہے اور طلبا کو فی الحا ل گھر جانے کی صلاح دی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ شہر سرینگر کے کئی تعلیمی اداروں میں سیکورٹی فورسز کو رکھا گیا ہے ۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق افواہوں کے بیچ اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں ہوسٹلوں کو خالی کیا گیاہے۔ ہوسٹلوں میں مقیم طلبا کو فی الحال گھر جانے کی صلاح دی گئی ہے جبکہ امتحانات کو بھی موخر کیا گیا ہے۔ ہوسٹل انچارج امین بٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ موجودہ حالات کے پیش نظر یونیورسٹی کے ہوسٹلوں کو خالی کیا گیا ہے جبکہ آج منعقد ہونے والے امتحانات کو بھی ملتوی کیا گیا ہے۔ اسلامک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالب علم متوقی نائیک نے بتایا کہ اُنہیں فوری طورپر ہوسٹل خالی کرنے کے ضمن میں آگاہ کیا گیا جس کے بعد سامان باندھ کو گھروں کی اور لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔ ادھر شہر سرینگر میں اضافی اہلکاروں کی موجودگی اور اُنہیں رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کئی سرکاری عمارتوں میں بی ایس ایف ، پیرا ملٹری فورسز کو رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں لوگ خوف ودہشت کا شکار ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ممکنہ طورپر کسی بڑے فیصلے کے پیش نظر اس طرح کا اقدام اُٹھا گیا ہے۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کے اطراف و اکناف میں اضافی پیر املٹری فورسز کو پہنچا دیا گیا ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی خاطر سیکورٹی ایجنسیوں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو نے پہلے ہی الرٹ جاری کیا ہے کہ عسکریت پسند سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی فراق میں ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے پوری وادی میں ریڈ الرٹ جاری کرکے اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مرکزی حکومت ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کی خاطر کئی سطحوں پر اقدامات اُٹھا رہی ہے جبکہ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں لوگ تذبذب کا شکار ہو گئے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ حکومت کو کوئی فیصلہ نہیں لیا بلکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے حملوں کے خدشات کے پیش نظر اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

جے کے انوائرنمنٹ امپیکٹ اسیسمنٹ اتھارٹی تشکیل

ریاستی سطح کی ماہرین پر مشتمل اپرائزل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی
نیوزسروس

سری نگر /۴ اگست :مرکزی سرکار نے ریاستی سطح کی انوائرنمنٹ امپیکٹ اسیسمنٹ اتھارٹی جے اینڈ کے کا قیام عمل میں لایاہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کی مشاورت سے ریاستی سطح کی ماہرین پر مشتمل اپرائزل کمیٹی جموں وکشمیر بھی تشکیل دی ہے جو اتھارٹی کی معاونت کرے گی۔مکانات و شہری ترقی کی مرکزی وزارت کی نوٹیفکیشن کے مطابق اتھارٹی کی سربراہی کھیریاں گول گجرال جموں کے لال چند کریں گے۔اتھارٹی میںجیلان آباد بٹہ پورہ سرینگر کے نذیر احمد بھی ہوں گے اور ڈائریکٹر ماحولیات و ریموٹ سینسنگ اتھارٹی کے ممبر سیکرٹری ہوں گے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کے چیئرمین اور ارکان کی مدت تین سال کی ہوگی۔اتھارٹی کی معاونت کے لئے مرکزیسرکار نے ایک اپرائزل کمیٹی جموں وکشمیر بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی شاستری نگر جموں کے سبھاش چندر شرما کریں گے۔کمیٹی کے ارکان میں مومن آباد اننت ناگ کے ایم اے ٹاک، چھنی ہمت سیکٹر2 جموں کے برج بھوشن شرما، گلشن نگر نوگام بائی پاس کے عبدالرشید ماکرو،سینک کالونی جموں کے پروفیسر اروند جسروٹیہ اور جے کے امپا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر غلام محمد ڈار ہوں گے۔علاوہ ازیں باغ حیدر پورہ بائی پاس کے عرفان یٰسین، جنرل پوسٹ آفس سرینگر کے پروفیسر ایم اے خان، شعبہ¿ اکنامکس جموں یونیورسٹی کے پروفیسر فلیندر کمار سودن، ماحولیاتی سائنس شعبہ¿ جموں یونیورسٹی کے پروفیسر انل کے رینہ، کشمیر یونیورسٹی کے ارتھ سائنسز شعبہ¿ کے پروفیسر شکیل احمد رومشو بھی اس کے ارکان ہوں گے جبکہ انچارج ریموٹ سینسنگ اینڈ جی آئی ایس لیبارٹری کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے۔ ریاستی سطح کی ماہرین پر مشتمل اپرائزل کمیٹی کے چیئرمین اور ممبران تین برس کی مدت تک اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے ریاستی سطح کی ماہرین پر مشتمل اپرائزل کمیٹی مشترکہ ذمہ داریوں کے اصول پر کام کرے گی اور ہر معاملے میں چیئرمین اتفاق رائے کے مطابق فیصلہ لیں گے اور اگرکسی معاملے میں اتفاق رائے نہ پایا گیا اس صورت میں کمیٹی کے سارے ممبران کی رائے حتمی تصور کی جائے گی۔حکومت جموں وکشمیر نے اتھارٹی کے لئے محکمہ جنگلات میں قائم ڈائریکٹوریٹ آف انوارنمنٹ اینڈ ایکولوجی کو بطور سیکرٹریٹ نامزد کیا ہے ۔ڈائریکٹوریٹ اتھارٹی کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرے گا۔ کوئی بھی شخص جسے انوارنمنٹ کلیرنس کے لئے درخواست دینے کا خواہشمند ہو کو چاہئے کہ وہ ریاستی حکومت کے ڈائریکٹر انوانمنٹ اینڈ ایکولوجی فارسٹ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ قائم کریں۔

لداخ جانے والے موٹر سائیکل سوار سیاحوں کو

بانہال کے نزدیک روک کر واپس بھیج دیا گیا
یو پی آئی

سرینگر :۴، اگست //موٹر سائیکل پر سوار ایک درجن کے قریب سیلانی جنہیں سرینگر سے ہوتے ہوئے لداخ جانا تھا کو جواہر ٹنل کے نزدیک روک کر واپس بھیج دیا گیا ۔ موٹر سائیکلوں پر سوار سیاحوں نے بتایا کہ اب وہ ڈوڈہ کے راستے ہماچل جاکر وہاں سے لداخ جانے کی کوشش کرئینگے۔ مرکزی وزار ت داخلہ کی جانب سے مقامی سیلانیوں کو واد کشمیر نہ جانے کے سلسلے میں ایڈوائزری جاری کرنے کے بعداتوار کے روز بانہال کے نزدیک اُس وقت عجیب و غریب صورتحال دیکھنے کو ملی جب موٹر سائیکلوں پر سوار ایک درجن کے قریب سیاح سرینگر کی طرف جا رہے تھے کہ اس دوران جواہر ٹنل کے نزدیک اُنہیں سیکورٹی فورسز نے روکا اور واپس جانے کا فرمان جاری کیا۔ تن مائے نامی ایک موٹر سائیکل سوار سیاح نے بتایا کہ کئی ماہ قبل اُنہوں نے بائیکوں کے ذریعے لداخ جانے کا پروگرام بنایا تھا اور جونہی)
وہ بانہال کے نزدیک پہنچے تو اُنہیں یہ کہہ کر واپس بھیجا گیا کہ وادی میں حالات ٹھیک نہیں ہے لہذا وہ سرینگر کے راستے لداخ نہیں جاسکتے ہیں۔ مذکورہ سیاح کے مطابق وہ اب ڈوڈہ کے ذریعے ہماچل جائینگے اور وہاں سے لداخ جانے کی کوشش کرئینگے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی وزارت داخلہ نے بھی مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اُنہیں وادی کشمیر نہ جانے کی صلاح دی ہے کیونکہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے حملوں کے پیش نظر اس طرح کا فیصلہ لیا گیا ۔ ایڈوئزری جاری کرنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر کی سیر و تفریح پر آنے والے سیاحوں کو جبری طورپر نکالا گیا ۔ پچھلے تین دنوں سے دس ہزار کے قریب ملکی اور غیر ملکی سیلانی واپس اپنے اپنے گھروں کی اور روانہ ہوئے ہیں۔

ریاستی اِنتظامی کونسل کے اہم فیصلے

ایس پی اوﺅز کے مشاہرے میں اضافہ کو منظوری
جے کے پولیس کو ڈریس ،کِٹ میٹننس الاﺅنس نقد دیا جائےگا
نیوزسروس

سری نگر /۴ اگست :گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقدہ ریاستی اِنتظامی کونسل میٹنگ کے دوران ریاست کے سپیشل پولیس افسران کے حق میں واگزار کئے جارہے مشاہرے میں اضافہ کرنے کے عمل کو منظور ی دی۔حکومت ہند کے تعاون سے ریاستی اِنتظامی کونسل نے جموں وکشمیر پولیس کے ایس پی اوز کے مشاہرے میں اضافہ کو منظوری دی۔اِس فیصلے کے تحت جن ایس پی اوز نے تین برس سے کم مدت کے لئے اپنے خدمات دیں ہوں گی کو اب 6000روپے کا ماہانہ مشاہراہ فراہم کیا جائے گا جبکہ دیگر ایس پی اوز جنہوں نے تین برس کی خدمات مکمل کی ہوں کو ماہانہ 9000(باقی ۶ پر)
روپے مشاہراہ دیا جائے گا۔ اسی طرح جن ایس پی اوز نے پانچ برس اور دس برس کی ملازمت انجام دی ہو کو بالترتیب 12000اور 15000روپے ماہانہ مشاہراہ دیا جائے گا۔جن ایس پی اوز نے 15برس بطور ایس پی او کام کیا ہو کو ماہانہ 18ہزار روپے مشاہراہ ماہانہ دیا جائے گا۔اِس فیصلے کی بدولت ریاست کے 30,000ایس پی اوز مستفید ہوں گے۔اس دوران ریاستی اِنتظامی کونسل میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ ریاست کے سارے پولیس عملے کو اضافی شرحوں پر براہِ راست ڈریس اور کِٹ میٹننس الاﺅنس نقد دیا جائے گا۔یہ الاﺅنس مشاہرے کی صورت میں ایس پی اوز کو بھی دیا جائے گا۔پولیس کے نان گزیٹیڈ عملے کو یہ سالانہ الاﺅنس ماہانہ 40روپے جبکہ گزیٹیڈ افسروں کو 150روپے ماہانہ دیا جائے گا۔ریاستی اِنتظامی کونسل کے فیصلے کے تحت جموں اینڈ کشمیر پولیس کے ایس ایس پیز ، ایس پیز اور ڈی ایس پیز کو ڈریس اور کٹ میٹننس الاﺅنس سالانہ 10,000روپے نقد دیا جائے گاجبکہ پولیس عملے میں انسپکٹر سے اے ایس آئی تک یہ الاﺅنس سالانہ 7000 روپے فراہم کیا جائے گا۔

افواہوں اورقیاس آرائیوں سے وادی میں ہیجانی کیفیت

شہروقصبہ جات میں تیسرے روز بھی پیٹرول پمپوں ، اے ٹی ایم بوتھوں اوردکانات کے باہر لوگوں کی قطاریں
نیوزسروس

سرینگر :۴، اگست //وادی میں تیسرے روز بھی پیٹرول پمپوں ، اے ٹیم ایم بوتھوں اور بازاروں میں گہما گہمی دیکھنے کو ملی ۔ اس دوران اکثر پیٹرول پمپوں کو بند کیا گیا ہے کیونکہ لوگوں نے کئی سولیٹر پیٹرول گھروں میں ذخیرہ کر لیا جس کے باعث قلت پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کی جانب سے لوگوں سے اپیل کی جاتی ہیں کہ وہ پیٹرول کو ذخیرہ نہ کریں کیونکہ وادی میں وافر مقدار میں پیٹرول اور دوسری چیزیں دستیاب ہیں۔ وادی میں تیسرے روز بھی پیٹرول پمپوں ، اے ٹی ایموں پر لوگوں کا بھاری رش دیکھنے کوملا۔ شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ دوسرے اضلاع میں بھی اکثر پیٹرول پمپ بند پڑتے ہوئے تھے تاہم جو پیٹرول پمپ کھلے تھے وہاں لوگوں کی اتنی بھیڑ تھی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی اُلجھ پڑے۔ ایم اے روڑ پر قائم پیٹرول پمپ پر تو تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں اور لوگ پیٹرول کی خاطر کئی گھنٹوں تک اپنی باری کا انتظار کرتے رہے ۔ ریاض احمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ پوری وادی میں ہیجانی کیفیت ہے پیٹرول پمپوں پر تیل دستیاب ہی نہیں جس کے نتیجے میں وادی کشمیر کی شاہراﺅں پر گاڑیوں کی آواجاہی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مذکورہ شہری کے مطابق مسافر بردار گاڑیاں بھی شاہراﺅ(باقی ۶ پر)
ں پر اب نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ اکثر پیٹرول پمپ بند کئے گئے ہیں حالانکہ پیٹرول اُن کے پاس دستیاب ہے تاہم وہ پیٹرول فروخت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ ایک ایک شخص 50سے 100لیٹر تک پیٹرول خرید رہا ہے۔ ادھراگرچہ حکومت نے کہاہے کہ لوگوں کو افواہوں پر کوئی دھیان نہیں دینا چاہئے کیونکہ وادی میں ایسی کوئی بات نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود بھی لوگ پٹرول پمپوں کے باہر جمع ہورہے ہیں۔اتوار کو بھی پیٹرول پمپوں پر صبح سی ہی بھاری رش تھا۔لالچوک ، کرن نگر ، ٹنگہ پورہ ، ایچ ایم ٹی اور دیگر کئی جگہوں پر پیٹرول پمپ خالی تھے جبکہ کئی پیٹرول پمپوںکو بند کیا گیا تھا۔پٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ وادی میں پٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ا±ن کے پاس2400 گاڑیاں موجود ہیں اور ا±ن کے پاس پانپور اور زیون میں 3ڈیپو بھی ہیں جہاں پر روزانہ پٹرول اور ڈیزل سے بھری گاڑیاں پہنچتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حیدرپورہ میں ایک پٹرول پمپ کی کھپت ایک دن میں 2ہزار لیٹر ہے لیکن وہاں 24گھنٹوں کے دوران 20ہزار لیٹر پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ادھروادی میں موجود مختلف بنکوں کے اے ٹی ایمز پر بھی لوگوںکا بھاری رش دیکھا گیا اور کروڑوں روپے نکالے گئے۔