انجینئر رشید پوچھ تاچھ کےلئے نئی دہلی طلب

این آئی اے کی کارروائی سیاسی انتقام گیری: شاہ فیصل
کے این ایس

سرینگر:۴ ، اگست قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید کے نام سمن جاری کرتے ہوئے انہیں نئی دہلی طلب کیا ۔ معلوم ہوا کہ این آئی اے عوامی اتحاد پارتی کے سربراہ سے فنڈنگ کے معاملے پر پوچھ کرنا چاہتی تھی۔ اُدھر پیپلز یونائیٹڈ فرنٹ نے قومی تحقیقاتی ایجنسی کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے منصوبہ بند پروگرام کے تحت سیاسی لیڈران کو ہراسان کرنے کی کارروائی قرار دیا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور سابق ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید کے نام سمن جاری کرتے ہوئے اُنہیں پوچھ تاچھ کےلئے نئی دہلی طلب کیا۔ سابق ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے معاملے کو اُس وقت عوام کی نظروں میں لایا جب انہوں نے اس کی اطلاع سماجی رابطہ سائٹ فیس بک پر ڈالی۔اپنے فیس بک پوسٹ میں انجینئر رشید کا کہنا تھا کہ این آئی اے نے انہیں اتوار کے روز پوچھ تاچھ کےلئے نئی دہلی طلب کیا ہے۔ ادھر پیپلز یونائٹیڈ فرنٹ نے این آئی اے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی لیڈران کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے منصوبہ بند پروگرام سے تعبیر کیا۔ پی یو ایف کے لیڈر ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید کو پوچھ تاچھ کےلئے نئی دہلی طلب کرنا مذموم عمل ہے جس کا مقصد یہاں کے سیاسی لیڈران کوجان بوج کر ہراساں اور خوفزدہ کرنا ہے۔شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ سابق ممبر اسمبلی لنگیٹ ایک عوامی لیڈر اور عوام کی آوا ز ہے اور ایسے وقت میں جب کشمیر پر کئی مصیبتیں آن پڑی ہے، مذکورہ لیڈر کو پوچھ تاچھ کے بہانے طلب کرنا ان کی سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ انجینئر رشید عوامی شخصیت ہے جو ہر ایک حلقے میں متعارف ہے۔موصوف بے باک اور صاف گو لیڈر ہے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے منفرد مو¿قف رکھتے ہیں تاہم ان کی سیاسی سرگرمیوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ نئی دہلی میں بیٹھے لوگوں کے مفاد لڑکھڑاگئے ہیں۔ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک عوامی لیڈر جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر سامنے آچکا ہے ، کےساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے جو بہت ہی نارروا اور غیر مہذبانہ ہے۔پی یو ایف لیڈر ڈاکٹر شاہ فیصل نے مطالبہ کیا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کو چاہیے کہ وہ موصوف سے پوچھ تاچھ کا عمل فی الفور مکمل کرکے انہیں سرینگر واپس بھیجے کیوں کہ ان کی غیر موجودگی سے کشمیر کی سیاست کے اندر ایک خلا پید اہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *