فاروق عبداللہ کی زیرصدارت کل جماعتی اجلاس

خصوصی پوزیشن کے دفاع کے لئے متحد ہونے کا اعلان
یو این آئی

سری نگر، ۴، اگست : جموں وکشمیر کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس نے ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے دفاع کے لئے متحد ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان جماعتوں نے کہا کہ آئین میں کسی بھی طرح کی ترمیم، دفعہ 35 اے یا دفعہ 370 کی منسوخی، غیر آئینی حد بندی یا تقسیم جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔کشمیر میں حکومت کے اقدامات سے پیدا شدہ پ±ر تناﺅ صورتحال کے بیچ اتوار کی شام یہاں نیشنل کانفرنس صدر و
سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی میں ک±ل جماعتی اجلاس منعقد ہوا جس میں ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر فاروق عبداللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتیں جموں وکشمیر کی شناخت، اٹانومی اور خصوصی پوزیشن کے دفاع کے لئے متحد ہیں اور کسی بھی حملے کے خلاف متحد ہوکر لڑیں گی۔انہوں نے کہا کہ آئین میں کسی بھی طرح کی ترمیم، دفعہ 35 اے یا دفعہ 370 کی منسوخی، غیر آئینی حد بندی یا تقسیم جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ ک±ل جماعتی اجلاس میں شرکت کرنے والی جماعتوں نے فیصلہ لیا کہ صدر جمہوریہ، وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران کے ساتھ ملاقات کی کوششیں کی جائیں گی تاکہ انہیں موجودہ صورتحال اور ریاست کو ریاست اور ملک کے آئین کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔انہوں نے ریاستی عوام سے اپیل کی کہ وہ امن بنائے رکھیں اور موجودہ صورتحال میں صبر کریں۔ انہوں نے پڑوسی ممالک ہندوستان اور پاکستان سے بھی اپیل کی کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تناﺅ میں اضافے کا سبب بنے۔انہوں نے کہا: ‘میں تمام جماعتوں کی طرف سے جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر حالت میں یہاں امن بنائے رکھیں اور صبر کریں۔ ہمیں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے یہاں کے امن میں خلل پیدا ہو۔ میں ہندوستان اور پاکستان سے بھی یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تناﺅ میں اضافہ ہو۔ تناﺅ میں اضافے سے دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا’۔ک±ل جماعتی اجلاس کی صدارت فاروق عبداللہ نے کی جبکہ پی ڈی پی کی طرف سے محبوبہ مفتی، مظفر حسین بیگ، عبدالرحمان ویری اور سہیل بخاری، پیپلز کانفرنس کی طرف سے سجاد غنی لون، عمران رضا انصاری اور عبدالغنی وکیل، کانگریس کی طرف سے تاج محی الدین، سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی، نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ، اراکین پارلیمان جسٹس حسنین مسعودی و محمد اکبر لون، ناصر اسلم وانی، علی محمد ساگر، پیپلز یونائیٹڈ فرنٹ کے شاہ فیصل و عزیر رونگا اور اے این سی کے مظفر احمد شاہ نے اس میں شرکت کی۔بتادیں کہ جموں وکشمیر حکومت نے جمعہ کے روز ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں وادی کشمیر میں موجود امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کو فوراً سے پیشتر واپس چلے جانے کے لئے کہا گیا۔ ایڈوئزری میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ یاترا کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم وادی کشمیر میں لوگوں کو خدشہ ہے کہ مرکزی حکومت کوئی کشمیر مخالف اقدام اٹھانے والی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *