نئی دہلی میںمرکزی وزیر داخلہ کی زیرصدارت کئی ہنگامی میٹنگیں

کشمیرکی تازہ صورتحال کااحاطہ
لائن آف کنٹرول پر فوج کی تعیناتی پر بھی گفت وشنید
نیوزمانٹرینگ

سرینگر :۴، اگست //جموں وکشمیرکی تازہ حالات پرمرکزی حکومت کی مسلسل نظربنی ہوئی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایک کے بعد ایک میٹنگ کررہے ہیں۔ اتوارکوسب سے پہلے امت شاہ نے سینئر افسران کےساتھ ہائی لیول کی میٹنگ کی۔ میٹنگ ختم ہونے کے فوراً بعد ہی مرکزمیں جموں وکشمیرڈویڑن کے ایڈیشنل سکریٹری گیانیش کمارامت شاہ سے ملنے پہنچے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے پہلے قومی سلامتی کے مشیراجیت ڈوﺅل،مرکزی داخلہ سکریٹری راجیوگوبا، آئی بی چیف اروند کماراور’را‘ چیف سامنت کمارگویل کے ساتھ میٹنگ کی۔میڈیارپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران ریاست خاص کرو ادی کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر مرکزی وزیر داخلہ کو جانکاری فراہم کی گئی کہ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر اضافی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق میٹنگ کے دوران مرکزی وزیر داخلہ کو کنٹرول لائن کی صورتحال پر بھی مکمل جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتا گیا کہ پچھلے2 روز سے پاکستانی رینجرس کی بارڈرایکشن ٹیم نے12مرتبہ دراندازی کرنے کی کوشش کی تاہم مستعد فوجی اہلکاروں نے جنگجوﺅں کے منصوبوں کو ناکام بنایا جس دوران کیرن سیکٹر میں 10ملی ٹنٹ اورپاکستانی این ایس جی کمانڈوز ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور پاکستانی رینجرس کی منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے خاطر اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ فوج کو جدید اسلحہ سے بھی لیس کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ نے آفیسران کو بتایا کہ عسکریت پسندوں اور پاکستانی رینجرس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی مرکزی حکومت کشمیر میں امن و شانتی بنائے رکھنے کی خاطر کئی سطحوں پر کام کررہی ہے
۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے ایک دو روز میں کشمیر کے حوالے سے اہم فیصلے لینے کا امکان ہے ۔ تاہم مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ مین اسٹریم پارٹیوں کی جانب سے ہو رہا ہے کیونکہ مذکورہ پارٹیوں نے افواہیں پھیلا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہو گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *