سٹی ایکسپریس نیوز
سری نگر، 4 اگست،2026 : جموں و کشمیر میں رواں سال اب تک بادل پھٹنے کے 35 سے زائد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کے نتیجے میں تقریباً 31 افراد ہلاک ہوئے اور پورے مرکزِ زیرِ انتظام علاقے میں مکانات، سڑکوں، پلوں اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یکم جون سے جولائی کے وسط کے درمیان بادل پھٹنے کے کم از کم 22 واقعات رپورٹ ہوئے۔ تاہم، جولائی کے آخری نصف اور اگست کے اوائل میں مسلسل شدید بارشوں کے باعث مزید کئی مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئے، جس سے ایسے واقعات کی کل تعداد 35 سے تجاوز کر گئی۔
ہلاکتوں کی بڑی وجہ بادل پھٹنے، اچانک سیلاب (فلیش فلڈز) اور بارش کے باعث تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے واقعات رہے ہیں، جن میں جموں ڈویژن میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔
شدید متاثرہ اضلاع میں پونچھ، راجوری، کٹھوعہ، ڈوڈہ اور کشتواڑ شامل ہیں، جہاں موسم سے متعلقہ آفات کے بار بار پیش آنے والے واقعات نے جان و مال کا بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ کشمیر میں، شوپیاں اور کپواڑہ سمیت دیگر اضلاع میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں، جس سے معمول کی زندگی متاثر ہوئی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
موسم کی شدت کے ان بار بار پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں رہائشی مکانات، سڑکیں، پل، زرعی اراضی اور دیگر عوامی سہولیات تباہ ہوئیں، اور ساتھ ہی کئی دور دراز علاقوں میں مواصلاتی رابطے بھی متاثر ہوئے۔
شدید بارشوں کے حالیہ سلسلے نے ایک بار پھر موسمی آفات کے حوالے سے پہاڑی علاقوں کی کمزوری اور خطرات کو نمایاں کیا ہے، جبکہ حکام کئی متاثرہ اضلاع میں بچاؤ، بحالی اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آفات سے نمٹنے والے حکام نے سیلاب اور تودے گرنے کے خطرے سے دوچار علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور موسم سے متعلق ہدایات پر سختی سے عمل کریں کیونکہ خطے میں مون سون کا اثر بدستور جاری ہے۔ (کے این ٹی)
