نئی دہلی، 22 اکتوبر,2026: بھارت نے اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے (اسپیشل ریپورٹر) کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق رپورٹ میں حقائق کی مبینہ غلطیوں اور تعصب پر سخت تنقید کی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم، جو مفرور ہے، اب بھی بھارت کو مطلوب ہے اور پاکستان میں مقیم ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے، بھارتی سفارت کار راگھو پوری نے ایسی رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جن میں حقائق کی غلطیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی غلطیوں پر احتساب کا نہ ہونا اقوام متحدہ کے وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ تبصرے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بین سال کی ایک رپورٹ کے تناظر میں سامنے آئے، جس میں داؤد ابراہیم کو ’بھارت میں قائم‘ ’ڈی کمپنی‘ نامی مجرمانہ گروہ کا سربراہ قرار دیا گیا، جس کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط ہیں۔ اس وضاحت پر اعتراض کرتے ہوئے، پوری نے کہا کہ داؤد 1993 سے دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں بھارت کو مطلوب ہے اور وہ 2003 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے القاعدہ سے تعلق کی بنا پر فہرست میں شامل کیے جانے سے قبل ہی ملک چھوڑ چکا تھا۔ انہوں نے کہا، “اس حقیقت کا ذکر نہ کرنا افسوسناک ہے،” اور مزید کہا کہ خصوصی مینڈیٹ رکھنے والے عہدیداروں کی جانب سے ایسی غلطیاں خود اس عالمی ادارے (اقوام متحدہ) کے لیے نقصان دہ ہیں۔ پوری نے کہا کہ داؤد بدستور بھارت کو مطلوب مجرم ہے اور اقوام متحدہ کی فہرست کے مطابق وہ پاکستان میں مقیم ہے—وہی ملک جہاں 2011 میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا سراغ ملا تھا اور وہ امریکی افواج کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ بھارت نے ان کوششوں پر بھی تنقید کی جن کے ذریعے انسانی حقوق اور انسدادِ دہشت گردی کے فریم ورک کو دہشت گردی کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ پوری نے کہا، “انسانی حقوق کا فریم ورک دہشت گردی کے مرتکب افراد اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کے لیے پناہ گاہ نہیں بن سکتا۔ دہشت گردی کو کبھی بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔” جموں و کشمیر اور لداخ کے حوالے سے پاکستانی وفد کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے، بھارتی سفارت کار نے ان الزامات کو محض پروپیگنڈا قرار دیا جس کا مقصد سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ انگ ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے ایک روز قبل بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کو بتایا تھا کہ انسانی حقوق کو سیاسی دباؤ ڈالنے یا مخصوص ممالک کو ہدف بنانے کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ جبری یا غیر ارادی گمشدگیوں کے موضوع پر بھارت کا موقف پیش کرتے ہوئے، وزارت خارجہ کی ڈپٹی سیکرٹری برکھا تمراکر نے ان آئینی اور ادارہ جاتی تحفظات پر روشنی ڈالی جو بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے نمٹنے کے لیے موجود ہیں۔ بھارت نے جبری گمشدگیوں سے نمٹنے کے لیے احتساب، شفافیت اور تعاون کا بھی مطالبہ کیا۔ (ایجنسیاں)