سری نگر، 20 اکتوبر,2026: جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے جموں و کشمیر میں جاری ’اسمارٹ میٹرنگ‘ (بجلی کے جدید میٹر لگانے) کے عمل پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ غریب گھرانوں کو بجلی کے کنکشن کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں، سجاد لون نے دعویٰ کیا کہ اسمارٹ میٹر لگانے والی کمپنی ہر گھر کو صرف چار میٹر تک کیبل فراہم کر رہی ہےجس میں دو میٹر ’ان پٹ‘ (بجلی کی آمد) کے لیے اور دو میٹر ’آؤٹ پٹ‘ (بجلی کی فراہمی) کے لیے ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن گھروں کو مزید کیبل کی ضرورت ہوتی ہے، ان سے اس اضافی لمبائی کے لیے ادائیگی کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ سجاد لون نے کہا کہ اضافی کیبل کی قیمت کی وجہ سے کچھ غریب گھرانوں کو اسمارٹ میٹر لگوانے کے لیے 4,000 سے 5,000 روپے تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں، خاص طور پر ان گھروں میں جو بجلی کے کھمبوں سے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں۔ انہوں نے 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے انتخابی وعدے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دو سال گزر جانے کے باوجود صارفین کو یہ وعدہ کردہ سہولت نہیں ملی ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا حوالہ دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا، “انتخابی مہم کے دوران، وزیراعلیٰ صاحب نے اسمارٹ میٹرنگ کے عمل کو تنقید، طنز اور غصے کا نشانہ بنایا تھا۔” حکومت پر طنز کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ جن لوگوں نے اس حکومت کو ووٹ دیا تھا، اب انہی سے اسمارٹ میٹر لگوانے کے لیے پیسے مانگے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ دراصل ایک بہت بڑا مذاق ہے۔ اور یہ مذاق ایک بار پھر انہی لوگوں کے ساتھ ہوا ہے جنہوں نے وزیراعلیٰ صاحب کو ووٹ دیا تھا۔”