سٹی ایکسپریس نیوز
جالندھر، 29 دسمبر،2025: پنجاب کے گورایا کے ایک شخص نے، جو حال ہی میں اپنے لاپتہ بھائی کی تلاش کے لیے اس ملک کا دورہ کرنے کے بعد روس سے واپس آیا تھا، اتوار کو دعویٰ کیا کہ 10 ہندوستانی، جو یوکرین کے خلاف جاری لڑائی کے لیے روسی فوج میں بھرتی کیے گئے تھے، ہلاک ہو گئے ہیں۔
جالندھر کے گورایا کے رہنے والے جگدیپ کمار نے دعویٰ کیا کہ ان 10 ہندوستانیوں میں سے تین کا تعلق پنجاب سے ہے اور سات کا تعلق اتر پردیش اور جموں سے ہے۔
ان دعوؤں کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔
جگدیپ نے کہا کہ اس نے کچھ دستاویزات، جو روسی فوج کے مطابق ان 10 افراد کی موت کی تصدیق کرتے ہیں، راجیہ سبھا کے رکن بلبیر سنگھ سیچیوال کے دفتر کو دیے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ روس میں چار ہندوستانی بھی لاپتہ ہیں۔
ستمبر میں ہندوستان نے روس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہندوستانی شہریوں کو روسی فوج میں معاون عملے کے طور پر بھرتی کرنے کی اپنی پریکٹس کو ختم کرے۔ نئی دہلی نے روسی فوج کے ذریعہ ہندوستانیوں کی تازہ بھرتی کی اطلاعات کے بعد روسی مسلح افواج میں خدمات انجام دینے والے تمام ہندوستانیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
ہندوستان نے اپنے شہریوں کو بھی متنبہ کیا تھا خطرات کے پیش نظروہ روسی فوج میں شامل ہونے کی پیش کش نہ کریں ۔
دریں اثنا، سیچیوال نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ روسی فوج میں ہندوستانی نوجوانوں کی بھرتی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ کئی ہندوستانی نوجوانوں کو روس میں نوکریوں کی پرکشش پیشکش کی گئی لیکن بعد میں انہیں یوکرین کے خلاف لڑنے کے لیے روسی فوج میں "زبردستی” بھرتی کیا گیا۔
جگدیپ نے کہا کہ اس کی پہلی ملاقات 29 جون 2024 کو سیچیوال سے ہوئی تھی، جس کے دوران اس نے روسی فوج میں پھنسے اپنے بھائی مندیپ کمار اور دیگر ہندوستانی نوجوانوں کی بحفاظت واپسی کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔
اس کے بعد سیچےوال نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی اور روس سے ہندوستانیوں کی بحفاظت واپسی کی درخواست کرتے ہوئے خط لکھا۔
جگدیپ نے کہا کہ راجیہ سبھا ایم پی شروع سے ہی متاثرہ خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوششوں کی بدولت بہت سے ہندوستانی نوجوان بحفاظت اپنے خاندانوں کے پاس واپس جا چکے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جب انہیں اپنے بھائی مندیپ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملی تو انہوں نے روس جانے کا فیصلہ کیا۔ مندیپ روس میں لاپتہ ہو گیا تھا جہاں ایک ٹریول ایجنٹ نے اسے روسی فوج میں بھرتی کرایا تھا۔ خاندان نے مارچ 2024 میں ان سے آخری بات کی تھی۔
سیچیوال نے اس کے لیے ٹکٹوں کا بندوبست کرکے مدد کی اور انھیں ایک خط بھی فراہم کیا تاکہ انھیں روس میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جگدیپ نے بتایا کہ اس نے دو بار روس کا دورہ کیا۔
اپنے پہلے سفر کے دوران، وہ وہاں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں اور خاص طور پر پنجابی نوجوانوں کو تلاش کرتے ہوئے 21 دن تک وہاں رہے۔
تاہم اسے زبان کی رکاوٹ کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے دوسرے سفر میں وہ دو ماہ تک رہے اور کافی معلومات اکٹھی کیں۔
سیچیوال نے وزیر خارجہ کو لکھے اپنے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے درخواست کی تھی کہ روس میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی نوجوانوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کو واپس بھیجی جائیں تاکہ وہ آخری رسومات ادا کرسکیں۔
انہوں نے ایسے ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا جو نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ (ایجنسیاں)
