وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لیا سنجیدہ نوٹس
ہاتھ سے بنے کشمیر ی قالینوں کے تحفظ پر زور،سخت ایکشن کی ہدایت مختلف وفودکیساتھ ملاقات
انفو
سری نگر/۴۲،جولائی: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو مشین سے بنے ہوئے قالینوں کو اصل کشمیری ہاتھ سے بنے قالین کے طور پر بیچنے پر سخت نوٹ لیا اورمحکمہ صنعت و حرفت کو ہدایت دی کہ وہ شو روموں اور ریٹیل آو¿ٹ لیٹس کےخلاف سخت کارروائی کریں جو مشین سے بنے قالینوں کو کشمیری ہاتھ سے بنے قالین کے طور پر فروخت کررہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ایسی جعلسازی عالمی سطح پر کشمیری ہاتھ سے بنے قالینوں کے برانڈ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور کاریگرکنبوں کو بُری طرح متاثر کرے گی جو اَپنی روزی روٹی کے لئے اس دستکاری پر انحصار کرتے ہیں۔کارپٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل، اِنڈین سلک ایکسپورٹ پروموشن کونسل، میراث کارپٹ ویورز کوآپریٹیو، کشمیر کارپٹ کلسٹر ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور کشمیر کارپٹ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے وفدنے وزیراعلیٰ سے سول سیکرٹریٹ سری نگر میں ملاقات کی اور مشین سے بنے قالینوں کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے کچھ بے ایمان تاجروں کی جانب سے مشین سے بنے قالینوں پر جعلی جی آئی لیبل کا اِستعمال کرنے کا معاملہ بھی اُٹھایا۔ اُنہوں نے اس ہنر، کشمیر کی شناخت اور کاریگروں کی روزی روٹی کے تحفظ پر زور دیا۔منی گام گاندربل کے ایک وفد نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور اُن کے علاقے میں مستقبل کے ادارہ جاتی اِستعمال کے لئے اَراضی کی حفاظت کی درخواست کی۔ایچ آر ایجنسی کے ایک وفد نے جے اینڈ کے ہاو¿سنگ بورڈ کے ساتھ اپنے بقایا واجبات کے حوالے سے شکایت کی۔ ڈینٹل سرجنوںکے ایک وفد نے ڈینٹل سرجنوں کی اَسامیاں معرض وجود میں لانے اور پُر کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔ ممبر قانون ساز اسمبلی سوپور اور رُکن اسمبلی ترہگام نے بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور اَپنے حلقوں سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیراعلیٰ سے متعدد مسائل پر بات کی جن میں سٹیٹ سکول سٹینڈرڈ اَتھارٹی ( ایس ایس ایس اے) کا قیام، پرائیویٹ سکولوں کو این او سی جاری کرنے میں سہولیت اورتیزی لانا، کرائے کے مقامات پر کام کرنے والے سکولوں کے لئے 10 سالہ لیز معاہدے کی ضرورت، تعلیمی کیلنڈر میں کم سے کم کام کرنے والے دنوں کی گارنٹی اور سکولوں کے مسائل پر حکومتی کمیٹیوں میں نمائندگی دینے کے مطالبات شامل تھے۔وزیراعلیٰ نے پرائیویٹ سکولوں کے لئے این او سی کے اِجرا ¿میں تاخیر اور خدمات کی فراہمی میں تاخیر پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روزجموں و کشمیر پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ (پی ایس جی اے) کی میٹنگ میں تمام اِنتظامی سیکریٹریوںکو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر ماہ جائزہ میٹنگ منعقد کریں تاکہ عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کی عمل آوری کا جائزہ لیا جا سکے اور خدمات کی فراہمی کے لئے وقت کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ نے کل ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ کی عمل آوری پر بات کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایس جی اے فریم ورک کا مقصد من مانی اور تاخیری فیصلہ سازی کو ختم کرنا ہے اور عوام کو بروقت خدمات جیسے ریونیو ریکارڈ، سرٹیفکیٹس، لائسنس، یوٹیلیٹی کنکشن وغیرہ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اُنہوں نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ نادہندہ اَفسران پر جُرمانے عائد کئے جائیں۔
