سٹی ایکسپریس نیوز
لیہہ، 11 ستمبر،2026: لیہہ ایپکس باڈی اورکرگل ڈیموکریٹک الائنس نے لداخ کے لیے مکمل ریاستی حیثیت کا مطالبہ ترک کر دیا ہے۔ اب وہ پولیس اور امن و امان کے کنٹرول کے ساتھ ساتھ اپنے منتخب اراکینِ اسمبلی اور وزیرِ اعلیٰ پر مشتمل ایک مکمل منتخب قانون ساز ادارے کے قیام کے خواہاں ہیں۔ لیہہ ایپکس باڈی کے چیئرمین چیرنگ ڈورجے لاکروک نے خبر رساں ادارے کو یہ معلومات دیں۔
ڈورجے نے خبر رساں ادارے کو بتایا، "ہم نے ریاستی حیثیت کا مطالبہ چھوڑ دیا ہے۔” انہوں نے وضاحت کی کہ اب ایل اے بی اور کے ڈی اے کی توجہ موجودہ ‘یونین ٹیریٹری’ (مرکزی زیرِ انتظام علاقے) کے ڈھانچے کے اندر ہی ایک مکمل منتخب حکومت کے حصول پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ انتظام میں ایک منتخب قانون ساز اسمبلی، منتخب اراکینِ اسمبلی اور حکومت کی سربراہی کرنے والے وزیرِ اعلیٰ شامل ہونے چاہئیں۔
ڈورجے کا کہنا تھا کہ منتخب حکومت کے پاس پولیس اور امن و امان کا کنٹرول بھی ہونا چاہیے، اور یہ مرکزی حکومت کے سامنے رکھے جانے والے مطالبات کا ایک اہم حصہ ہے۔
یہ پیش رفت لداخ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے مرکزی حکومت اور ایل اے بی و کے ڈی اے کے نمائندوں کے درمیان جاری بات چیت کے تناظر میں اہمیت کی حامل ہے۔
مرکزی حکومت لداخ کے لیے ایک ممکنہ خصوصی آئینی انتظام پر بات چیت کر رہی ہے جس میں ‘یونین ٹیریٹری’ کی سطح پر ایک منتخب ادارہ بھی شامل ہے۔ تاہم، لداخ کے گروپس اس منتخب ادارے کے لیے وسیع تر قانون سازی اور انتظامی اختیارات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ڈورجے نے بتایا کہ مرکزی حکومت اور لداخ کے گروپس کے نمائندوں کے درمیان اگلی ملاقات اکتوبر کے پہلے ہفتے میں طے کی گئی ہے۔
پولیس اور امن و امان پر کنٹرول کا مطالبہ مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت میں متنازعہ مسائل میں شامل رہا ہے۔ لداخ کے نمائندوں کا موقف رہا ہے کہ اگر حکمرانی کے اہم شعبے منتخب حکومت کے کنٹرول سے باہر رہیں تو وہ مکمل طور پر بااختیار نہیں ہو سکے گی۔
مرکزی حکومت کا مجوزہ ڈھانچہ ابھی زیرِبحث ہے، اور کسی بھی منتخب ادارے کے حتمی اختیارات اور ساخت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ (کے این ٹی)
