متاثرہ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ مقدمہ کرائم برانچ کے حوالے کر دیا گیا ہے؛ انہوں نے جاری تفتیش پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سٹی ایکسپریس نیوز
کشتواڑ، 31 اگست،2026: کشتواڑ کے چھاتروعلاقے میں مبینہ زیادتی اور قتل کا شکار ہونے والی کم سن بچی کے والد نے اپیل کی ہے کہ ان کی رضامندی یا انگوٹھے کے نشان کے بغیر اس معاملے سے متعلق کوئی بھی مقدمہ دائر یا اس کی پیروی نہ کی جائے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں متاثرہ بچی کے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ کسی نے جموں میں مقدمہ دائر کیا ہے، اور انہوں نے اپیل کی کہ ان کے انگوٹھے کے نشان کے بغیر ایسی کوئی قانونی کارروائی شروع نہ کی جائے۔
اس مبینہ ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: "میں نے سنا ہے کہ کسی نے جموں میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ میرے انگوٹھے کے نشان کے بغیر کوئی مقدمہ دائر نہ کرے۔”
متاثرہ بچی کے والد نے مزید کہا کہ تفتیش کرائم برانچ کے حوالے کر دی گئی ہے اور وہ اس پیش رفت سے مطمئن ہیں۔
دریں اثنا، سوشل میڈیا پر ایک اور مبینہ ٹیلی فونک گفتگو بھی گردش کر رہی ہے جس میں متاثرہ بچی کے والد ایڈووکیٹ دیپیکا سنگھ راجاوت سے بات کر رہے ہیں؛ موصوفہ نے مبینہ طور پر اس معاملے سے متعلق کوئی عرضی دائر کی ہے یا وہ اس سے وابستہ ہیں۔
اس مبینہ گفتگو کے دوران، والد نے مبینہ طور پر درخواست کی کہ ان کی جانب سے کسی مقدمے کی پیروی نہ کی جائے، کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی کرائم برانچ کے حوالے کیا جا چکا ہے اور وہ تفتیش سے مطمئن ہیں۔
انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: "میرا مقدمہ کرائم برانچ کے حوالے کر دیا گیا ہے اور میں اس سے مطمئن ہوں۔ آپ جو کچھ بھی کریں گی، اس کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی۔”
چھاترو میں کم سن بچی کے مبینہ ریپ اور قتل نے وسیع پیمانے پر بحث اور تشویش کو جنم دیا ہے، اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس واقعے کے حالات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ بچی کے والد سے منسوب بیانات نے جاری بحث میں ایک نیا پہلو شامل کر دیا ہے، خاص طور پر مقدمے میں قانونی کارروائی اور نمائندگی کے حوالے سے۔
سوشل میڈیا پر موجود مبینہ ویڈیوز اور ٹیلی فونک گفتگو کی صداقت اور قانونی حیثیت، نیز اس معاملے کے سلسلے میں مبینہ طور پر دائر کی گئی کسی بھی عرضی کی درست تفصیلات کا تعین متعلقہ حکام یا عدالتی ریکارڈ کے ذریعے کیا جانا ضروری ہوگا۔ (ایجنسیاں)
