سٹی ایکسپریس نیوز
نئی دہلی، 14 اگست،2026: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ‘بار کونسل آف انڈیا’ کے اس سرکلر پر سخت برہمی کا اظہار کیا جس میں تمام ریاستی بار کونسلوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ‘نالسریونیورسٹی آف لاء’ کے 2026 کے بیچ کے کسی بھی گریجویٹ کو بطور وکیل رجسٹر نہ کریں۔ عدالت نے کہا کہ طلبہ کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں بی سی آئی کا کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ ان (چیف جسٹس) اور طلبہ کے درمیان بات چیت کا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے، جن کی سربراہی میں قائم بنچ میں جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے، کہا، "انہیں (طلبہ کو) احتجاج کا حق حاصل ہے۔ انہیں کون روک سکتا ہے؟”
چیف جسٹس نے کہا، "یہ میرے اور طلبہ کے درمیان بات چیت کا معاملہ ہے۔ وہ (بی سی آئی) کون ہوتے ہیں جو اس میں مداخلت کریں؟”
یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب بی سی آئی کے سرکلر کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر فوری سماعت کی درخواست کی گئی۔
بنچ نے بی سی آئی کو نوٹس جاری کر کے اس عرضی پر جواب طلب کیا اور ہدایت کی کہ بی سی آئی یا کسی بھی ریاستی بار کونسل کے کہنے پر نالسرکے طلبہ یا اساتذہ کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کی جائے۔
بی سی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ سرکلر واپس لے لیا گیا ہے۔
بنچ نے معاملے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
13 اگست کو، بی سی آئی نے تمام ریاستی بار کونسلوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اگلے احکامات تک نالسر یونیورسٹی آف لاء کے 2026 کے گریجویٹس کو بطور وکیل رجسٹر نہ کریں، لیکن سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کے بعد چند گھنٹوں کے اندر ہی یہ حکم واپس لے لیا۔
اپنے ابتدائی بیان میں، بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کی کانووکیشن (تقریبِ تقسیمِ اسناد) میں چیف جسٹس آف انڈیا کانت کی شرکت کے خلاف مہم سے متعلق الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں اور انہوں نے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے والی رپورٹ طلب کی ہے۔
وکلاء کی اعلیٰ ترین قانونی تنظیم نے کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ 19 اگست کو، اپنے سامنے پیش کیے گئے مواد پر غور کرنے کے بعد کیا جائے گا۔
اس کے بعد، سوشل میڈیا پر ہونے والے ہنگامے کے پیشِ نظر بی سی آئی نے اپنے فیصلے میں ترمیم کی اور ریاستی بار کونسلوں کو اجازت دے دی کہ وہ نالسر یونیورسٹی آف لاء کے 2026 کے گریجویٹس کو بطور وکیل رجسٹر کر سکیں۔
نئے نوٹیفکیشن میں سابقہ حکم میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا کہ طلباء کی "بڑی اکثریت” بے قصور ہے اور انہیں چند افراد کے مبینہ غلط رویے کی وجہ سے نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔ (ایجنسیاں)
