جب گیند محمد سراج کے بلے سے ٹکرائی تو یہ بظاہر ایک عام سی گیند تھی جو 74 اوورز کی کرکٹ کے بعد اب نرم پڑ چکی تھی۔ پچ بظاہر فلیٹ ہو چکی تھی اور انگلش بولرز اب نئی گیند کے انتظار میں تھے۔
لیکن اگلے ہی لمحے یہ پچ پر گرنے کے بعد واپس سپن ہو کر وکٹوں سے ٹکرا گئی اور انڈیا کی مبہم امیدیں دم توڑ گئیں۔
انگلش کپتان کے نہ ختم ہونے والے بولنگ سپیل، لارڈز کی مشکل پچ اور روندرا جڈیجا کی صبر سے بھرپور شاندار اننگز۔۔۔ انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان تیسرے ٹیسٹ کے پانچویں روز فتح کس کی ہو گی، اس کا جواب ہر وکٹ اور ہر رن کے ساتھ تبدیل ہوتا رہا۔
کرکٹ کے گھر لارڈز میں پانچ روز کی کرکٹ کے دوران تنازع ہر روز ہیڈلائنز بناتے رہے۔ کبھی میچ میں دانستہ تاخیر پر تنازع تو کبھی گیند کی حالت پر۔۔۔ بات جملوں کے تبادلے اور تلخ کلامی تک بھی پہنچی، یہاں تک کے ایک انڈین کھلاڑی کو جرمانہ بھی ہوا۔
