سٹی ایکسپریس نیوز
کشتواڑ، 27 اگست،2026: ضلع پولیس کشتواڑ نے چھاترو علاقے کی ایک 15-16 سالہ نابالغ لڑکی کی مشکوک موت کی تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے جمعرات کو مزید تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد اس معاملے میں گرفتار افراد کی کل تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
ایس ایس پی کشتواڑ نریش سنگھ (جے کے پی ایس) کے مطابق، پولیس اسٹیشن چھاترو کو 20 اگست 2026 کو نابالغ لڑکی کی مشکوک موت کے بارے میں اطلاع ملی تھی۔ چونکہ ابتدائی طور پر کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، اس لیے پولیس نے موت کے حالات کا تعین کرنے کے لیے قانونی ضابطہ کارروائی شروع کی۔
اس کارروائی کے دوران، پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد سامنے آئے جن سے سنگین جرائم (قابلِ گرفت جرم) کے ارتکاب کا اشارہ ملتا تھا۔ اس کے بعد اس کارروائی کو ایف آئی آر نمبر 34/2026 میں تبدیل کر دیا گیا، جو پولیس اسٹیشن چھاترو میں POCSO ایکٹ کی دفعات 4/6/8/10/17 اور بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 61(2)/65(1)/90/91/92 کے تحت درج کی گئی۔
مزید تفتیش کے دوران، اس مقدمے میں ‘شیڈولڈ کاسٹس اینڈ شیڈولڈ ٹرائبس (انسدادِ مظالم) ایکٹ’ کی دفعات، بشمول 3(1)(w)(i)، 3(2)(v) اور 3(2)(va)، کا بھی اضافہ کیا گیا۔
معاملے کی سنگینی اور حساسیت کے پیشِ نظر، ایس ایس پی کشتواڑ نے ایڈیشنل ایس پی کشتواڑ پردیپ سنگھ (جے کے پی ایس) کی سربراہی میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔
اس ایس آئی ٹی میں ڈی وائی ایس پی پی سی ڈچھن نتیش شرما، ایس ایچ او پولیس اسٹیشن چھاترو انسپکٹر رشی کمار اور دیگر پولیس افسران شامل ہیں۔ ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کی مکمل، سائنسی، غیر جانبدارانہ اور مقررہ مدت میں تفتیش کرے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی اور بعد کی تفتیش کے دوران، خالد حسین ولد غلام محمد شیخ (ساکن گورینال، تحصیل چھاترو) کے خلاف شواہد سامنے آئے۔ وہ گورنمنٹ مڈل اسکول، گورینال میں بطور استاد تعینات تھے، جہاں مذکورہ نابالغ لڑکی زیرِ تعلیم تھی۔ تفتیش کے مطابق، نابالغہ کے ساتھ بار بار جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آئے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ ان مبینہ جرائم کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی تھی۔
تفتیش کاروں نے مزید الزام عائد کیا کہ خالد حسین نے اپنے بھائی طارق حسین (جو غلام محمد شیخ کا بیٹا اور گورینال کا رہائشی ہے) کے ساتھ مجرمانہ سازش کرتے ہوئے مبینہ طور پر ایسی ادویات فراہم کیں یا کھلائیں جن کا مقصد حمل کا خاتمہ کرنا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ نابالغ بچی کے طبی علاج کے سلسلے میں اسے پہلے پی ایچ سی چھترو لے جایا گیا اور بعد ازاں طارق حسین اور دیگر افراد کی جانب سے اسے ڈسٹرکٹ ہسپتال کشتواڑ منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق، تفتیش کے دوران ڈسٹرکٹ ہسپتال کشتواڑ میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے سویپر (صفائی کرنے والے) فاروق احمد کے ملوث ہونے اور ملی بھگت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن کا تعلق بچی کے علاج اور الٹراساؤنڈ معائنے سے ہے۔
جاری تفتیش کے سلسلے میں پولیس نے مزید تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن کی شناخت یوں ہے: فاروق احمد ولد ثناء اللہ ساکن سنگرام بٹہ، کشتواڑ؛ محمد اسحاق ولد محمد خضر؛ اور ریاض احمد ولد غلام محمد شیخ (دونوں کا تعلق شیخ پورہ، گورینال، تحصیل چھترو سے ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان تینوں کو تفتیش کے دوران سامنے آنے والی مبینہ مجرمانہ سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ان گرفتاریوں کے ساتھ ہی اس مقدمے میں گرفتار ملزمان کی کل تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس کشتواڑ نے کہا کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور شواہد کی بنیاد پر جہاں بھی ضرورت ہوئی، مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔
ایس آئی ٹی اس مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں نابالغ لڑکی کی موت کے حالات، جنسی زیادتی کے الزامات، حمل ضائع کرنے کی مبینہ کوشش، اسے فراہم کردہ طبی علاج اور اس معاملے میں ملوث ہو سکنے والے تمام افراد کا کردار شامل ہے۔
ایس ایس پی کشتواڑ نریش سنگھ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تفتیش منصفانہ، غیر جانبدارانہ، پیشہ ورانہ، سائنسی اور شواہد پر مبنی انداز میں کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کے ہر پہلو کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور ملوث پائے جانے والے کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے عین مطابق سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ (ایجنسیاں)
