سٹی ایکسپریس نیوز
کولگام، 14 ستمبر،2026: جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے سامنو نہامہ میں واقع ایک فش فارم میں لاکھوں روپے مالیت کی ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہو گئی ہیں، جس سے فارم چلانے والا خاندان شدید مالی نقصان سے دوچار ہو گیا ہے۔
یہ فارم عبدالسلام بھٹ کی ملکیت ہے اور اسے رواں سال کے اوائل میں محکمہ ماہی پروری (فشریز ڈیپارٹمنٹ) کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا۔
خاندان کے مطابق، یہ اقدام بھٹ کے دو تعلیم یافتہ مگر بے روزگار بیٹوں کے لیے روزگار کا ذریعہ پیدا کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔
خاندان کے ایک فرد نے کہا، "ہم نے یہ فارم اس امید پر قائم کیا تھا کہ یہ ہمارے خاندان، خاص طور پر ہمارے دو تعلیم یافتہ بے روزگار بیٹوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بنے گا۔ لیکن ہزاروں مچھلیوں کی ہلاکت سے ہمیں لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہمیں شبہ ہے کہ شرپسند عناصر نے پانی کی فراہمی روک دی تھی، جس کے نتیجے میں یہ سانحہ پیش آیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور حکام کی جانب سے ہمیں مدد فراہم کی جائے۔”
خاندان نے الزام لگایا کہ شرپسند عناصر نے فارم کو پانی فراہم کرنے والے پائپوں کو بند کر دیا تھا، جس سے مچھلیوں کے تالاب میں تازہ پانی کی آمد رک گئی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی میں خلل کے باعث فارم میں موجود ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہو گئیں۔
خاندان کے مطابق اس واقعے سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے؛ یہ فارم ان کے گھرانے کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ توقع ہے کہ حکام ہلاکتوں کے اسباب کا تعین کریں گے اور یہ معلوم کریں گے کہ آیا پانی کی فراہمی میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالی گئی تھی۔
خاندان نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذمہ داروں کی شناخت کرے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ انہوں نے محکمہ ماہی پروری اور انتظامیہ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ نقصانات کا تخمینہ لگائیں اور ضروری امداد فراہم کریں۔ (ایجنسیاں)
