سٹی ایکسپریس نیوز
- نئی دہلی، 9 اکتوبر,2026: دہلی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ کارروائی ایک کشمیری نوجوان کی شکایت پر کی گئی ہے جس پر الزام ہے کہ ایک روز قبل دارالحکومت کے کناٹ پلیس علاقے میں کانگریس رہنماؤں کے احتجاج کے دوران حملہ کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق، شکایت کنندہ نے خود کو وزیر اعظم نریندر مودی کا مداح قرار دیا اور الزام لگایا کہ جمعرات کو جب وہ وزیر اعظم کی تصویر لے کر احتجاجی مقام پر پہنچے تو کانگریس کارکنوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جائیں گی۔ سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، “ای وی ایم سب سے پہلے 1998 میں راجیو گاندھی لائے تھے۔ آپ سب کے پاس فوٹیج موجود ہے۔ میں نے راہل گاندھی کو کوئی گالی نہیں دی، لیکن مجھے بری طرح پیٹا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے لوگوں کو اس سازش سے آگاہ کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا جسے وہ بھارت کو نیپال یا بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “راہل گاندھی سے سوالات پوچھے جانے چاہئیں۔ یہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔” اطلاعات کے مطابق یہ نوجوان احتجاجی مقام پر پہنچا تھا اور وزیر اعظم مودی کی حمایت میں نعرے لگانے کے بعد مظاہرین کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ بدسلوکی اور مار پیٹ کی۔ تاہم، مظاہرین کا الزام تھا کہ اس نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہجوم میں شامل لوگ اس شخص کو گھیرے میں لے رہے ہیں، اسے دھکے دے رہے ہیں، گھسیٹ رہے ہیں اور بار بار مار رہے ہیں۔ بعد ازاں نوجوان نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم کی حمایت کرنے پر کانگریس کارکنوں نے اس پر حملہ کیا، جبکہ اس نے راہل گاندھی کو گالی دینے کی تردید کی۔ اس واقعے پر سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے اور بی جے پی رہنماؤں نے مبینہ حملے کی مذمت کی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کی اور کانگریس کارکنوں پر “انارکسٹ (انتشار پسند) ذہنیت” کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا۔ بی جے پی کے ایک اور ترجمان، ساجد یوسف شاہ نے بھی مبینہ حملے پر تنقید کی اور اختلافِ رائے اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے کانگریس کے عزم پر سوال اٹھایا۔ دریں اثنا، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کی ‘اسپیشل انٹینسیو ریویژن'( ایس آئی آر ) مہم میں مبینہ بے ضابطگیوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ ان مظاہروں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
