228

جموں وکشمیر میں 2022تک اسمبلی انتخابات کاامکان نہیں

مرکزی سرکارکی جانب سے ایک سال قبل تشکیل شدہ حدبندی کمیشن کے معیادکار میں ایک سال کی توسیع کاشاخسانہ
نیوزسروس

سری نگر:۴،مارچ:جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کاانعقادکرانے کامعاملہ کم سے کم2022تک کھٹائی میں پڑگیاہے ،کیونکہ مرکزی حکومت نے اسمبلی حلقوں کاسرنوتعین کرنے کیلئے ایک سال قبل تشکیل کردہ حدبندی کمیشن کے معیاد کار میں ایک سال کی توسیع کردی ہے ۔خیال رہے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے گزشتہ دنوںیہ واضح کردیاتھاکہ حدبندی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعدمرکزی الیکشن کمیشن جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے بارے میں حتمی فیصلہ لے گا۔مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر، آسام، منی پور، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش کے انتخابی حلقوں کی دوبارہ حدبندی کےلئے گذشتہ سال مارچ میں قائم کردہ Delimitation- Commission یعنی حدبندی کمیشن کو اپنا کام مکمل کرنے کےلئے توسیع مل گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کی میعاد میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے اور اب یہ پینل صرف جموں و کشمیر کی حد بندی پر غور کرے گا۔اس پینل کو چار شمال مشرقی ریاستوں کے لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی حدبندی اور جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد بڑھانے کا کام سونپا گیا ہے۔مرکز کی جانب سے جاری کی گئی نوٹیفکیشن میں لکھا گیا ہے کہDelimitation – Commissionایکٹ2002 کی دفعہ 3 کے ذریعے دئیے گئے اختیارات کا استعمال کر کے مرکزی حکومت آسام، اروناچل پردیش، منی پور اور ناگالینڈ کو کمیشن سے ہذف (نکال) کر رہی ہے۔جس کا مطلب اب یہ کمیشن صرف جموں و کشمیر کی حدبندی پر توجہ مرکوز کرے گا۔گزشتہ سال لوک سبھا اسپیکر نے15 رکن
پارلیمان کو حد بندی کمیشن کا بطور ممبر نامزد کیا تھا۔ممبران میں مرکزی وزراءکرن رجیجو اور ڈاکٹرجتیندر سنگھ شامل ہیں، جو انتخابی حلقوں کو دوبارہ بنانے یعنی اسمبلی حلقوں کی سرنوحدبندی میں مدد کریں گے۔رکن پارلیمان اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیاں، جس کےلئے کمیشن تشکیل دیا گیا ہے، پینل کو اس کے کام میں مدد کے لئے بطور ساتھی ممبر بنائے جاتے ہیں۔جموں و کشمیر میں فی الحال کوئی قانون ساز اسمبلی موجود نہیں ہے۔مرکزی حکومت نے 6 مارچ2020 کو سپریم کورٹ کے سابق جج رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا۔الیکشن کمشنر سشیل چندر اور جموں و کشمیر کے ریاستی الیکشن کمشنر اور دیگر چار ریاستوں کے الیکشن کمشنر اس کے سابقہ ممبر تھے۔اب ا لیکشن کمشنر سشیل چندر کے علاوہ، صرف جموں و کشمیر کے ریاستی الیکشن کمشنر ہی اس کے ممبر ہیں۔سیاسی مبصرین کامانناہے کہ حدبندی کمیشن کے معیادکارمیں ایک سال کی توسیع کاصاف مطلب یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں اگلے سال کم سے کم مارچ کے مہینے تک اسمبلی انتخابات نہیں ہونگے ۔مبصرین کہتے ہیں کہ اب مذکورہ کمیشن کی معیاد چونکہ مارچ2022تک بڑھادی گئی ہے تویہ کمیشن اپنی رپورٹ اپریل2022میں پیش کرسکتاہے اوراسکے بعدہی جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کاکوئی فیصلہ لیکر شیڈول جاری کیاجائے گا۔سیاسی مبصرین کایہ بھی مانناہے کہ اگر حدبندی کمیشن اپنی رپورٹ اپریل2022میں پیش کرے گا تواس رپورٹ کومرکزی سرکارکی جانب سے منظورملنے کے بعدہی قومی الیکشن کمیشن جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کرانے کاکوئی فیصلہ لے سکتاہے ،یعنی کل ملاکر جموں وکشمیر میں آئندہ کم سے کم 15مہینوں تک اسمبلی انتخابات کرائے جانے کے امکانات معدوم ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں