263

دفعہ 370 بھارت کا اندرونی معاملہ،35 اے کی بحالی اہم

خطے میں استصواب رائے پاکستان کی پالیسی
موجودہ رابطوں کو بیک چینل مذاکرات نہیں کہا جا سکتا
سری نگر:۸،مئی : پاکستان کے وزیرخارجہ نے دفعہ370کو بھارت کااندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 35 اے اس لئے اہم ہے کیونکہ اس کے ساتھ پاکستان کا طویل المدتی مفاد جڑا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان خطے میں استصواب رائے عامہ کرانا چاہتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے دفعہ 35 اے کی بحالی اہم ہے کیونکہ اس کا تعلق جموں و کشمیر کی آبادی کے تناسب کے ساتھ ہے۔پاکستان کی نجی ٹیلیوڑن چینل سماءنیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 370 کی بحالی پاکستان(۶پر)
کیلئے اہم نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 35 اے اسلئے اہم ہے کیونکہ اسکے ساتھ پاکستان کا طویل المدتی مفاد جڑا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان خطے میں استصواب رائے عامہ کرانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق35 اے کی عدم موجودگی میں جموں وکشمیرمیں آبادی کے تناسب میں تبدیلی یا ڈیموگریفک ری سٹرکچرنگ کی جاسکتی ہے۔شاہ محمودقریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے کیوں کہ دونوں ہی ایٹمی ممالک ہیں اور ان کے درمیان جنگ خودکشی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت الگ الگ نقطہ نظر رکھتے ہیں تاہم دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھ کر راستہ نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ5اگست 2019 کے اقدامات کے بعد بھارت میں ایک بڑا طبقہ ایسا موجود ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ان اقدامات سے ہندوستان نے کھویا زیادہ ہے اور پایا کم ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاک بھارت انٹیلی جنس سطح پر بات چیت سے متعلق معاملات سے وزارت خارجہ آگاہ ہے اور سیکورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حساس معاملات میں سیکورٹی اداروں کی رائے لی جاتی ہے مگر اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ لیڈنگ رول وزارت خارجہ کا ہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات مثالی ہے پاک بھارت موجودہ رابطوں کو بیک چینل مذاکرات نہیں کہا جا سکتا بلکہ دونوں ممالک کی انٹیلیجنس سروسز ایک دوسرے کو معاملات سے آگاہ کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت معاملات پر پیشرفت اس وقت ہوسکتی ہے جب ملٹری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہو اور اس وقت دونوں ایک پیج پر ہیں۔پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مو¿قف ہے کہ اگر بھارت اپنے فیصلوں پر نظرثانی اور حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرتا ہے تو ہمارا رویہ بھی مثبت ہی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں