467

زلزلے کی طرح کلاوڈ برسٹ یعنی بادلوں کاپھٹنا بھی ایک قدرتی آفت

پیش گوئی کرنا ممکن نہیں : پہاڑوں اوربیابانوں میں ہمہ وقت خطرہ:موسمیاتی وارضیاتی ماہرین
جب گرم مون سون کی ہوائیں، سرد ہواو¿ں کےساتھ ٹکراتی ہیں تو وہ بھاری بادلوں کی تشکیل کا باعث بنتی ہےں ،اورپھرپھٹ جاتے ہیں
نیوز سروس

سری نگر:۹۲، جولائی : ستمبر2014کی تباہ کن سیلابی صورتحال کے درپردہ بادل پھٹنے کے واقعات کارفرما تھے ،اورتب سے ہرسال جموں وکشمیر کے کسی نہ کسی علاقے میں بادل پھٹنے کاواقعہ رونماہورہاہے ۔بدھ کے رو زکشتواڑ،پہلگام،بانڈی پورہ اوردیگر کچھ مقامات پربادل پھٹنے کے بعدجو صورتحال پیداہوئی ،اُس کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے ،کیونکہ ابھی بھی کشتواڑ ضلع کے ہنزردھچن گاﺅں کی کئی خواتین سمیت19عام شہری لاپتہ ہیں ،جن کی تلاش کیلئے پولیس ،فوج ،ایس ڈی آرایف اوراین ڈی آرایف کی ٹیمیں سرگرم عمل ہیں ۔آئے دنوں بادل پھٹنے کے واقعات نے عام لوگوں میں خوف وہراس پیداکیا ہے ،کیونکہ بادل پھٹنے کے بعدسیلابی صورتحال پیداہوکر جان ومال کے اتلاف کاموجب بن جاتی ہے ۔اب جہاں تک بادل پھٹنے کی وجوہات کاتعلق ہے تواس بارے میں ماہرین کی عمومی رائے ہے کہ ایسے واقعات اکثر وبیشتر بالائے یا پہاڑوں علاقوں یعنی جنگلوں اوربیابانوں میں رونما ہوتے ہیں ۔اگر کسی جگہ یامقام پر ایک گھنٹہ میں10 سینٹی
میٹر بارش ہوتی ہے توایسی بارش کو بادل پھٹنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پانی کی یہ بڑی مقدار اچانک خارج ہونے سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے بلکہ املاک کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ہندوستانی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل مرتنجے مہاپترا نے کہاہے کہ کلاو¿ڈ برسٹ یعنی بادل پھٹنا بہت ہی چھوٹے پیمانے کا واقعہ ہوتا ہے اور ایسازیادہ تر ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں یا مغربی گھاٹوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب گرم مون سون ہوائیں، سرد ہواو¿ں کے ساتھ ٹکراتی ہیں تو وہ بھاری بادلوں کی تشکیل کا باعث بنتی ہےں ، جس کی وجہ ٹوپو گرافی یا اورﺅگرافک کے عوامل ہیں۔موسمیات اور موسمیاتی تبدیلی محکمہ کے نائب صدر، مہیش پلوات کاکہناہے کہ ایسے بادلوں کو cumulonimbusکمولیونبس کہا جاتا ہے اور ان کی لمبائی 13 سے14 کلو میٹر تک بھی بڑھ سکتی ہے۔ اگر وہ کسی خطے میں پھنس گئے ہیں یا ان کے منتشر ہونے کےلئے ہوائی نقل و حرکت نہیں ہے تو ، وہ ایک مخصوص علاقے میں خارج ہوجاتے ہیں۔محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پرایک موسمیاتی ماہرنے وضاحت کرتے ہوئے لکھاہے کہ جگہ اور وقت بہت کم ہونے کی وجہ سے کلاو¿ڈ برسٹ یعنی بادل پھٹنے کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔کلاو¿ڈ برسٹ کی نگرانی یا پیش گوئی (کچھ گھنٹوں قبل) کرنے کے لئے ، ہمیں کلاو¿ڈ برسٹ زدہ علاقوں پر گھنے ریڈار نیٹ ورک کی ضرورت ہے یا کسی کے پاس بادل پھٹنے کے پیمانے کو حل کرنے کےلئے موسم کی پیش گوئی کرنے والے بہت اعلی ماڈل رکھنے کی ضرورت ہے۔کلاو¿ڈبرسٹ میدانی علاقوں میں پائے جاتے ہیں ، تاہم ، پہاڑی علاقوں میں آثار نگاری کی وجہ سے بادل پھٹنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔اس مہینے جموں و کشمیر ، لداخ ، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے تمام پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل مرتنجے مہاپترا نے کہاکہکلاو¿ڈ برسٹ کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہے۔ لیکن ہم بہت ہی تیز بارش کے بارے میں انتباہ دیتے ہیں۔ ہماچل پردیش کے معاملے میں ، ہم نے سرخ (رنگین کوڈڈ الرٹ) دیا تھا۔ وزارت ارضیاتی سائنس کے سکریٹری ایم راجیوان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بادل پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اگرچہ ، بادل پھٹنے کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے ، تاہمDoppler-Radars ڈوپلر راڈرس کی پیش گوئی کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تقریب سے تین گھنٹے قبل نوٹس کو دیا جاسکتا ہے۔لیکن ہر جگہ راڈار نہیں ہوسکتا ہے ، خاص طور پر ہمالیہ کا علاقہ۔ ماہرین موسمیات اورارضیاتی سائنس کے ماہرین کہتے ہیں کہ چونکہ کلاﺅڈ برسٹ یعنی بادل پھٹنے کے واقعات کی پیشگوئی ممکن نہیں ،اسلئے جب بھی آسمان پرگھنے بادل چھائے ہوں ،گرج چمک کیساتھ بارشوں کاسلسلہ شروع ہوجائے توبالائی یعنی پہاڑی علاقوں بشمول جنگلوں اوربیابانوں میں نقل وحمل سے احتراض کیا جاناچاہئے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ کلاووڈ برسٹ زلزلے کی طرح ایک قدرتی آفت ہے ،جسکے بارے میں قبل ازوقت آگاہی یاپیشگوئی کرنا ابھی ممکن نہیں ہوپایاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں