588

کشتواڑ میں 21مکانات،ایک مسجد ، پُل ، راشن گھاٹ ، گاﺅں خانے تباہ

20 لاپتہ شہریوں کا ہنوز کوئی سراغ نہیں
این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں تلاشی کارروائی میں مصروف
یوپی آئی

سرینگر:۹۲،جولائی//کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے بھیانک واقعے میں لاپتہ ہوئے 20افراد کی تلاش دوسرے روز بھی جاری رہی ۔ اس بیچ سرکاری ترجمان نے بتایا کہ 21مکانات کو پانی کے تیز ریلے نے بہا کر لیا ہے جس میں ایک مسجد ، ایک پُل ، راشن گھاٹ ، متعدد گاﺅں خانے شامل ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ایس ڈی آر ایف کا کہنا ہے کہ جموں اور سرینگر سے ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی اضافی ٹیموں کو کشتواڑ روانہ کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ گاوں میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کی گئی ہے لیکن ابھی تک صرف سات افراد کی ہی لاشیں برآمد کی جا چکی ہے۔ کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے بعد لاپتہ ہوئے 20افراد کی تلاش دوسرے روز بھی جاری رہی ۔ نمائندے نے بتایا کہ پولیس ، فوج اور سی آر پی ایف کے ساتھ ساتھ سیول انتظامیہ سے وابستہ
آفیسران حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سرکاری ترجمان کے مطابق بدھ کے روز کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں 21مکانات ، گاﺅں خانوں ، راشن ڈیپو ، پُل اور ایک مسجد کو نقصان پہنچا ہے۔ سرکاری ترجمان نے بتایا کہ پانی کے ایک بڑے ریلے نے 20مکانات کو اپنے ساتھ بہا کر لیا ہے اور اُن کا کئی پر نام و نشان ہی باقی نہیں رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہوم گارڈ اور ایس ڈی آر ایف وی کے سنگھ نے بتایا کہ سرینگر اور جموں سے ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں کشتواڑ روانہ ہو چکی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ لاپتہ شہریوں کا پتہ لگانے کی خاطر جدید مشینری کا بھی سہارا لیا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مذکورہ ٹیموں کو خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعے متاثرہ گاﺅں میں ائر لفٹ کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ ادھر ڈویژنل کمشنر جموں راگھو لنگر اور آئی جی جموں مکیش سنگھ این ڈی آر ایف ٹیموں کے ہمراہ خصوصی ائر فورس جہاز کے ذریعے متاثرہ گاﺅں پہنچے ہیں۔ ڈویژن کمشنر جموں کے مطابق لاپتہ شہریوں کا پتہ لگانے کی خاطر متعدد ٹیمیں کام میں لگ گئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ چونکہ پانی کے تیز ریلے نے اپنے ساتھ پتھروں اور مٹی کو لایا جس وجہ سے ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے لیکن جدید مشینری کے ذریعے لاپتہ افراد کا پتہ لگایا جارہا ہے ۔ ادھرایس ایس پی کشتواڑ شفقت حسین نے بتایا کہ بادل پھٹنے اور سیلابی صورتحال کے بعد کئی افراد لاپتہ ہیں تاہم ان کی صحیح تعداد فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی ہے۔کشتواڑ کے مہلوکین کی شناخت ساجہ بیگم وزجہ غلام محمد،راقیلہ بیگم زوجہ ذاکر احمد(خانہ بدوش)،غلام نبی ولدغلا م رسول ،عبدالمجیدولد نذیراحمد،زیتونہ بیگم زوجہ حاجی لال دین (خانہ بدوش)اورتوصیف اقبال ولد محمداقبال شامل ہیں۔ ادھر ضلع بھر میں مواصلات اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوکے رہ گیا ہے۔ ادھر آئی جی پی جموں نے سماجی ویٹ سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشتواڑ واقعے میں ابھی تک 7افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اوربیس کے قریب ہنوز لاپتہ ہے۔ جبکہ 14افراد کو زخمی حالت میں بازیاب کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں