819

مینڈھرپونچھ کے جنگل میں چھپے جنگجوﺅںکی تلاش تیز

سراغ پانے کیلئے زیرحراست خاتون سمیت8افرادسے پوچھ تاچھ جاری
ممکنہ ٹھکانوں پر زور دار مارٹر شلنگ ، 6پنچایتی علاقے فورسز کی تحویل میں
یوپی آئی

سرینگر:۹۱، اکتوبر/مینڈھر پونچھ کے بھاٹا دھوریاں اور راجوری کے ڈھیرا کی گلی جنگلی علاقوںمیں ملی ٹینٹوں اور فورسز کے درمیان مسلح تصادم آٹھویں دن میں داخل ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ فورسز نے ممکنہ ٹھکانوں پر زور دار مارٹر شلنگ کی جس وجہ سے پورا علاقہ دہل اُٹھا۔ ملی ٹینٹوں کی مدد کرنے کے الزام میں سیکورٹی فورسز نے مزید 8افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مینڈھر پونچھ اور راجوری کے جنگلی علاقوں میں مسلسل آٹھویں روز بھی ملی ٹینٹ مخالف آپریشن جاری رہا۔ معلوم ہوا کہ پونچھ کے بھاٹا دھوریاں ناڈ جنگل کے ساتھ ساتھ بھاٹا ناڈ اور کانگڑا اگلوسہ کے پانچ پنچایتی حلقوں کو فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور پچھلے پانچ روز سے یہاں پر تلاشیاں جاری ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ تلاشی کے بیچ یہاں پر موجود عسکریت پسندوں
اور فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس دوران دھماکوں کی آوازیں دور دور علاقوں تک سنائی دیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بتایا کہ پیر کی صبح کو طرفین کے درمیان فائرنگ کا زور دار تبادلہ ہوتا رہا جو دیر رات تک جاری رہا۔ نمائندے نے بتایا کہ منگل کے روز بھی فوجی ہیلی کاپٹروں نے جنگلی علاقے کا کئی مرتبہ سروے کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے گھنے جنگلات میں عسکریت پسندوں کے ممکنہ ٹھکانوں پر زور دار موٹر شلنگ کی جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقے دہل اُٹھے۔ ذرائع کے مطابق جنگجوﺅں کے کمین گاہو ں کو تباہ کرنے کیلئے راکٹ لانچروں کا بھی استعمال کیا گیا جبکہ مارٹر شلنگ بھی ہو رہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے پیر کو سنگیوٹ اور بھاٹا دھوریاں کے مزید 3افراد کوحراست میں لیا اس طرح گرفتار ہونے والوں کی تعداد 9ہوگئی ہے، جن میں ایک خاتون بھی ہے۔ گرفتار شدگان میںزرینہ بیگم زوجہ فاروق احمد، اسکے بیٹے محمد شفاعت،محمد مشتاق اورمحمدعرفان شامل ہیں۔انکا والد فاروق احمد سعودی عرب میں کام کرتا ہے۔اسکے علاوہ گرفتار شد گان میں محمد خورشیدولد غلام محمد،محمد ماروف ولد باغ حسین،صابر حسین ولد دوست محمد اور عبدالحمید ولد محمد شیر خان بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کو اس بات کا خدشہ ہے کہ گھنے جنگلات میں موجود چٹانوں کی آڑ لے کر عسکریت پسند چھپے بیٹھے ہیں جن کے خلاف شلنگ کی جارہی ہیں تاکہ اُنہیںمار گرایا جاسکے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ جنگلاتی علاقے میں بھاری دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ ابھی تک فوج یا پولیس نے کسی بھی عسکریت پسند کے ہلاکت سے متعلق جانکاری فراہم نہیں کی۔ فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ راجوری اور پونچھ کے جنگلات میں آپریشن منگل کو بھی جاری رہا جس دوران ملی ٹینٹوں اور فورسز کے مابین رک رک کر گولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھاری چٹانیں اور گھنے جنگلات کے باعث ملی ٹینٹوں کو مارگرانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں لیکن فوج نے جدید قسم کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا شروع کیا ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کو جلد ازجلد مار گرایا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ جنگل میں کتنے ملی ٹینٹ چھپے ہیں اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن گاﺅں والوں اور عین شاہدین کا کہنا ہے کہ دس کے قریب ملی ٹینٹ وہاں پر موجود ہوسکتے ہیں جس کے پیش نظر اضافی نفری کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ اس دوران منگل سہ پہر کے بعد فوج نے پونچھ کے پانچ دیہی علاقوں میں اعلانات کئے کہ جو کوئی بھی عام شہری گھروں سے باہر ہیں اُنہیں اپیل کی جاتی ہیں کہ وہ گھر آئیں کیونکہ فوج نے فیصلہ کیا ہے کہ ملی ٹینٹوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جائے۔ لاوڈ سپیکروں پر اعلانات میں مزید کہا گیا کہ پونچھ میں فوج بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے جارہی ہیں جس دوران لوگ گھروں سے باہر نہ آئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں