717

پاوَر بریک ڈاوَن اور غیر منصفانہ بجلی کٹوتی

کپکپاتی سردی میں گھرگھر اندھیرا

سر ینگر ;223; ۶۲ نومبر;223;کپکپاتی سردی کے بیچ وادی کشمیر میں بجلی سپلائی میں حریت انگیز کٹوتی اور مسلسل پاور بریک ڈاوَن نے متعدد دیہات اور قصبہ جات کو تاریکی میں ڈوبا کر رکھ دیا ہے جبکہ بجلی محکمہ کی طرف سے اضافی بجلی کی فراہمی کے دعوے سراپ ثابت ہورہے ہیں اور لوگوں میں متعلقہ محکمے کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ جنوبی ،شمالی اور وسطی کشمیر کے ساتھ ساتھ دیگر دور دراز دیہاتوں میں بجلی کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے لوگوں کو پریشان کر رکھ دیا ہے ۔ صارفین نے بتایا کہ موسم سرما سے قبل ہی وادی میں بجلی کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی اور بار بار بجلی کی کٹوتی اور بجلی کی آنکھ مچولی سے مقامی لوگ خاص کر طلباء سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ ان دنوں مختلف جماعتوں کے امتحانات چل رہے ہیں اور بغیر اعلان بجلی شیڈول نے اسکولی بچیوں کو ذہنی پریشانیوں میں مبتلا کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بجلی فیس باقاعدگی سے ادا کررہے ہیں لیکن اسکے باوجود صورتحال تبدیل نہیں ہو رہی ہے جس سے مقامی صارفین پریشان ہیں ۔ کئی صارفین نے الزام لگایا کہ

متعدد علاقہ جات میں ریسوینگ اور گریڈ اسٹیشنوں میں لوڈ شیڈنگ کا بہانہ بنا کر غیر ضروری طور انکے علاقوں میں بجلی سپلائی منقطع کی جاتی ہے جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی محکمہ کے ملازمین صرف فیس کی وصولی کے وقت نظر آتے ہیں اور بعد میں غائب ہو جاتے ہیں کیونکہ وادی میں بجلی کا کوئی شیڈول نہیں ہے ۔ صارفین کا کہنا تھا کہ بجلی کے نظام الاوقات کو راتوں رات خفیہ طور پر تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اگرچہ مقامی روزناموں میں بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں لیکن بجلی کی مسلسل عدم دستیابی کے باعث اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر بجلی نہ ہوتی تو بہتر ہوتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھرنوں اور احتجاج کے باوجود محکمہ کے اہلکار ٹھس سے مس نہیں ہو رہے ہیں اور صارفین کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ شمالی کشمیر کے متعدد دیہات میں صورتحال بلکل ابتر ہے اور صارفین کو آنکھ مچولی کی صورت میں ملتی ہے ۔ کرناہ، ٹنگدھر، مچل، سوگام، کپواڑہ، لولاب، تریہگام، لال پورہ، ہندواڑہ، رامہل، راجوار، چک، وڈی پورہ، وڈیر بالا، وڈیر پایین، سونمرگ، خانی، کاکروسہ، درش پورہ، قاضی آباد، رفیع آباد، بارہمولہ، سوپور، اڑی، پٹن اور دیگر علاقوں کے صارفین نے کے این ایس کو بتایا کہ صبح اور شام کے وقت انکے علاقوں میں بجلی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے جبکہ انکے علاقوں میں بجلی شیڈولط نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔ ادھر جنوبی کشمیر کے شوپیان ،پلوامہ ،کولگام اور انت ناگ اضلاع کے سینکڑوں دیہات میں بھی بجلی کی صورت حال انتہائی ابتر ہے اور صارفین شدید مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں ۔ بجلی کی ابتر صورتحال پر عوام نے محکمہ بجلی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے سوال کیا ہے کہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت اور افسران جموں میں ڈیرے ڈال کر وادی کی عوام کو محصور بنا کر رکھ دیتے ہیں ۔ صارفین نے مزید بتایا کہ میٹر نصب ہونے کے دوران ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ بجلی کی سپلائی میں غیر ضروری کٹوتی نہیں کی جائے گی اور صارفین کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی لیکن یہ وعدہ بھی سراب ثابت ہوا ۔ صارفین نے بجلی کی صورتحال میں فوری بہتری لانے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر صورتحال اسی طرح جاری رہی تو محکمہ کے خلاف سراپا احتجاج ہونگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں