112

جموں وکشمیرمیں 9ماہ بعدکوروناوائرس پھربے قابو

ایک دن میں542مثبت معامات
جموںمیں288اورکشمیرمیں254نئے کیس درج،ایک مریض کی موت
یواین آئی

سری نگر:۷، جنوری: جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز لگاتار بڑھ رہے ہیں اور جمعے کے روز 542 افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے جبکہ ایک مریض بھی فوت ہوا۔سرکاری ترجمان نے بتایا کہ جمعے کے روز جموں وکشمیر میں 542 افراد کی رپورٹ مثبت آئی۔ا±ن کے مطابق جموں صوبے میں 288 اور کشمیر ڈویڑن میں 254 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ترجمان نے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ جمعے کے روز سری نگر میں 137افراد کی رپورٹ مثبت آئی، بارہ مولہ میں 48، بڈگام میں 20، پلوامہ میں دو، کپواڑہ میں 17، اننت ناگ میں 5، بانڈی پورہ میں تین ، گاندربل میں چاراور کولگام میں 18افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔
سرمائی دارلخلافہ جموں میں 176افراد کی رپورٹ جمعے کے روز پازٹیو آئی، ا±دھم پور میں 16، راجوری میں 14 ، ڈوڈہ میں 15، کٹھوعہ میں 23، سانبہ میں سات، کشتواڑ میں چار ، پونچھ میں چھ اور ریاسی میں 27افراد کورونا سے متاثر پائے گئے۔ادھر صحت شعبے سے جڑے ماہرین نے جموں وکشمیر سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ وائرس پر قابو پانے کی خاطر سخت نوعیت کے فیصلے لینا اب ناگزیر بن گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ کورونا وائرس کے یومیہ کیسز پانچ سو کے ہندسہ کو پار گئے لہذا اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت کو سخت اقدامات ا±ٹھانے ہونگے تب جا کر ہی اس مہا ماری سے نجات مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا رہنما اصولوں پر عملدرآمد کی صرف باتیں کی جارہی ہیں عملی طورپر ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کی خاطر کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ا±ن کے مطابق ضلعی انتظامیہ صر ف بیان بازی سے کام لے رہے ہیں سو روپیہ کا چالان کاٹنے سے وائرس پر قابو نہیں پایا جاسکتا بلکہ اس کے لئے اہم بازاروں اور مسافر بردار گاڑیوں میں بھیڑ پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے تب جا کر وائرس سے نجات مل پائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں