50

جموں وکشمیر میںگھریلو، غیر گھریلو اور تجارتی صارفین کے بجلی کے ماہانہ نرخوںمیں اضافے کامعاملہ

جموں میں17.74فیصداورکشمیر میں12.46فیصد اضافے کی تجویز
اعتراضات اور تجاویزپرغورکے بعدرواں ماہ جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کرے گاحتمی فیصلہ
نیوز ایجنسی

سری نگر:۶۱،مئی:جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) نے رواں مالی سال کےلئے بجلی کے نرخوں میں17.74 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (KPDCL) نے 12.46 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے سامنے دائر درخواستوں کے مطابق، جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) نے بتایا ہے کہ سال 2019-20میں مجموعی طور پر آمدنی کا فرق955.92 کروڑ روپے تھا جب کہ مالی سال 2020-21کے دوران یہ3684.22 کروڑ روپے تک بڑھ گیا۔ مالی سال 2020-21کے دوران مجموعی آمدنی کا فرق بڑھ کر 6062.33 کروڑ روپے
ہو گیا اور موجودہ بجلی کے نرخوں پر موجودہ مالی سال 2022-23کے دوران محصولات کا فرق مزید بڑھ کر8368.52 کروڑ روپے ہو جائے گا۔آمدنی کے فرق کو کسی حد تک بحال کرنے کےلئے، جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL)نے بجلی کے نرخوں میں17.74فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے، اس ذکر کے ساتھ کہ مجوزہ بجلی نرخوں پر مالی سال 2022-23کے لیے متوقع محصول کا بل2733.65 کروڑ روپے ہے۔ جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈنے کہاہے کہ تجویز شدہ بجلی کے نرخوںسے محصول میں 411.90 کروڑ روپے کا اضافہ ہوگا۔موجودہ بجلی کے نرخوںکے مطابق، جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) ماہانہ 100 یونٹس تک 1.69 روپے فی یونٹ، 101 سے200 یونٹس کےلئے 2.20 روپے فی یونٹ، 201 سے400 یونٹس کےلئے 3.30 روپے فی یونٹ اورفی مہینہ400 یونٹس سے زیادہ کےلئے3.52 روپے فی یونٹ چارج کرتا ہے ۔ تاہم ابجموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) نے200 یونٹس تک ماہانہ 2 روپے فی یونٹ، 201سے400 یونٹس کے لیے4روپے فی یونٹ اور 400 سے زائد یونٹس کے لیے 5 روپے فی یونٹ تجویز کیا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے فی کلو واٹ کے مقررہ چارجز کے طور پر 5.50 روپے سے بڑھا کر15 روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔جہاں تک میٹر کے بغیر کنکشن کا تعلق ہے، توجموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) نے 1/4کلو واٹ تک بجلی کی کھپت کے لئےماہانہ99 روپے سے200 روپے تک اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔1/4 کلوواٹ ے1/2کلوواٹ تک کے لیے 325 سے 400 روپے فی مہینہ۔ 1/2کلوواٹ سے اوپر کے لیے490 سے600 روپے تک فی مہینہ اور 3/4کلوواٹ سے ایک کلوواٹ کے لیے650 روپے سے800 روپے تک کی سفارش کی ہے۔درخواست کے مطابق، کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (KPDCL)نے ذکر کیا ہے کہ سال2019-20 میں، مجموعی آمدنی کا فرق 1604.95 کروڑ روپے تھا جب کہ سال 2020-21 میں یہ بڑھ کر 5890.76 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح، مالی سال 2021-21 کے دوران یہ فرق مزید بڑھ کر 9898.63 کروڑ روپے ہو گیا اور موجودہ بجلی کے نرخوں پر مجموعی آمدنی کا فرق رواں مالی سال (2022-23) کے دوران بڑھ کر 13145 کروڑ روپے ہو جائے گا۔ان بنیادوں پر، کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (KPDCL) نے اس ذکر کےساتھ12.46 فیصد کے اوسط ٹیرف میں اضافے کی تجویز پیش کی ہے کہ مجوزہ ٹیرف پر مالی سال2022-23 کے لیے متوقع محصول کا بل2199.20 کروڑ روپے ہے۔ مجوزہ بجلی کے نرخوں سے آمدنی میں 243.60 کروڑ روپے کا اضافہ کرے گا۔تاہم، کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ نے مجوزہ بجلی کے نرخوں کو میٹرڈ اور غیر میٹرڈ صارفین کے ساتھ ساتھ غیر گھریلو اور تجارتی صارفین کےلئے جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے مطابق رکھا ہے۔بجلی کے نرخوں کی دونوں درخواستوں کو اعتراضات اور تجاویز طلب کرنے کے لئے پبلک ڈومین میں ڈال دیا گیا ہے اور اس ماہ کے آخر تک تمام کارروائی مکمل کر لی جائے گی اور اس کے بعد کمیشن مجوزہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں