152

لیفٹنٹ گورنر نے کیا ماگام بڈگام میں JKKVIV سکھ ناگ سوزنی کڑھائی ہیریٹیج کلسٹر کا افتتاح

دستکاری کا شعبہ تخلیقی روایت کا ذخیرہ
شعبے کومسابقتی بنانے ، برآمدات کو فروغ دینے اور گاو ں کی صنعتوں کو تقویت دینے کیلئے مختلف اقدامات:منوج سنہا
انفو

بڈگام :۵۲، جون :لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ماگام بڈگام میں جے اینڈ کے کھادی اور ولیج انڈسٹریز بورڈ کے سکھ ناگ سوزنی ایمبرائیڈری ایس ایف یو آر ٹی آئی ہیریٹیج کلسٹر کا افتتاح کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ یہ ایس ایف یو آر ٹی آئی کلسٹر کم از کم 500 کاریگروں کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے پیداوار سے لیکر مارکیٹنگ کے مرحلے تک سوزنی کرافٹ کی ترقی کیلئے ایک جامع نقطہ نظر فراہم کرے گا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ حکومت نے دستکاری کے شعبے کو مزید مسابقتی بنانے ، برآمدات کو فروغ دینے اور گاو ں کی صنعتوں کو تقویت دینے کیلئے مختلف اقدامات کئے ہیں جو تخلیقی روائت کا ذخیرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صلاحیت سازی ، اختراع کو فروغ دینے ، کلاس انفراسٹرکچر میں بہترین ، کریڈٹ اور مارکیٹ تک آسان رسائی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے پالیسیاں نافذ کی ہیں کہ کاریگروں کو قومی اور بین الاقوامی ایکسپو میں اپنی مصنوعات کی نمائش کا موقع ملے اور وہ اپنی مصنوعات کی بہتر قیمت وصول کریں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ’ ووکل فار لوکل ‘ اقدام نے جموں و کشمیر کے ثقافتی اور فنکارانہ ورثے کو دُنیا کے سامنے لایا ہے ۔ انہوں نے کہا ” کووڈ کی وجہ سے دستکاری کے شعبے کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ یقینی طور پر یو ٹی کی اقتصادی ترقی کو بلندی پر لے جانے اور ہمارے نوجوانوں کو روز گار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ “ لفٹینٹ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ہنر مندوں کی تخلیقی صلاحتیں مستقبل میں حکومت کی مہارت کی ترقی ، جدید ٹیکنالوجی ، اختراعی کاروباری طریقوں میں مرکوز سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوں گی جو دستکاروں کی بڑھتی ہوئی کمائی میں براہ راست حصہ ڈالیں گی ۔ شاندار روایات ، رسم و رواج اور ثقافتوں کی نمائندگی کرنے والے کاریگروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے بیروہ کے ایک ایوارڈ یافتہ کاریگر بشیر احمد بھٹ کا خصوصی تذکرہ کیا جو قابل ذکر سوزنی کڑھائی کا کام کر رہے تھے ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے وزیر اعظم کے ایمپلایمنٹ جنریشن پروگرام ( پی ایم ای جی پی ) کے تحت نمایاں کارکردگی کیلئے کاریگروں اور کاروباری افراد کو سرٹیفکیٹس سے بھی نوازا ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے ان نوجوانوں کو مالی مدد ، ہنر مندی کی ترقی ، صلاحیت سازی وغیرہ کی شکل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی جو دستکاری کے شعبے سے متعلق کوئی بھی کاروباری سرگرمی شروع کرنے کے خواہاں ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے متعلقہ محکموں سے کہا کہ وہ بنکروں اور دستکاری کے فائدے کیلئے شروع کی گئی تمام اسکیموں کا مسلسل جائیزہ لیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھادی اور دیہی صنعتوں اور دستکاری کا محکمہ جموں و کشمیر کے دستکاریوں کی بہتر قیمتوں کو یقینی بنانے کیلئے اختراعی مارکیٹنگ کی حکمتِ عملی پر مل کر کام کرے گا ۔ لفٹینٹ گورنر نے زور دیا کہ لوگوں کو امن کیلئے کام کرنا چاہئیے جو ترقی کیلئے ضروری ہے ۔معاشرے کے دشمنوں اور ان کے ہینڈلرز کی مذموم سازش میں نہیں پھنسنا چاہئیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا مقصد جموں و کشمیر کو صرف تشدد کے تاریک دور میں دھکیلنا ہے ۔ بڈگام میں ہوم اسٹے کو فروغ دینے کے معاملے کے بارے میں آگاہ کئے جانے پر لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ مناسب کارروائی کیلئے اس مسئلے کو متعلقہ حلقوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کنیہاما گاو ں میں ہینڈ لوم کے اسٹالوں کا بھی دورہ کیا اور کاریگروں سے بات چیت کی ۔ ڈی ڈی سی چئیر مین بڈگام نذیر احمد خان نے لفٹینٹ گورنر کی قیادت والی یو ٹی حکومت کا عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ ہر شعبے میں مثبت تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور انہوں نے کے وی آئی بی کو روائتی فنون و دستکاری کے فروغ میں پیش رفت کرنے پر مبارکباد دی ۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وائس چئیر پرسن جے اینڈ کے کے وی آئی بی ڈاکٹر حنا شفیع بھٹ نے کہا کہ سوزنی کلسٹر کا قیام ان بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے جو بورڈ آرٹس اور دستکاری کے فروغ کیلئے اٹھا رہا ہے ۔ فائنانشل کمشنر ( ایڈیشنل چیف سیکرٹری ) فائنانس ڈیپارٹمنٹ مسٹر وویک بھاردواج نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کاریگروں کی بہبود کیلئے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر مختلف محکموں کے سربراہان ، پی آر آئی اراکین ، تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ شہریوں کے علاوہ کاریگروں اور تاجروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں