137

جموں وکشمیرمیں ملی ٹنسی سرحدپارکی حمایت اورمقامی تعاون پرابتک زندہ

لانچنگ پیڈوں پر150ملی ٹنٹ دراندازی کیلئے تیار
سرحدپارقائم11کیمپوںمیں 500سے700افرادزیرتربیت:فوج
نیوزایجنسی

سری نگر:۵۲، جون: فوج نے سنیچر کوخبردارکیاکہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار لانچ پیڈز پر تقریباً 150اسلحہ بردارد موجود ہیں جو جموں و کشمیر میں دراندازی کےلئے تیار ہیں جبکہ کیمپوں میں500سے700کے لگ بھگ مزیدملی ٹنٹ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ایک میڈیارپورٹ میں فوج کے ایک سینئر فوجی کے حوالے سے رپورٹ کیا گیاہے کہ سیکورٹی فورسز نے وادی میں کنٹرول لائن کے ساتھ دراندازی کی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا ہے۔فوجی افسر نے کہا کہ حدمتارکہ کے پار مانسہرہ، کوٹلی اور مظفر آباد میں قائم 11 تربیتی کیمپوں میں تقریباً 500سے700افراد موجود ہیں۔انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پرفوجی افسر نے کہا کہ پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں لانچ پیڈ پر تقریباً 150دہشت گرد (اسلحہ بردار)جموں و کشمیر میں دراندازی کےلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر وادی میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ اس سال اب تک کوئی کامیاب دراندازی نہیں ہوئی ہے۔فوجی افسرکاکہناتھاکہ مئی کے آخر تک، ہر چیز کا خیال رکھا گیا ہے۔ ایک خاص گروپ تھا جو آیا تھا،جس کو بانڈی پورہ اور سوپور میں ختم کر دیا گیا ہے۔فوجی افسر نے کہا کہ دہشت گرد اب دراندازی کے دوسرے راستوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جن کی شناخت ہو چکی ہے۔انہوںنے کہاکہ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہم نے ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جو دراندازی کو پوری طرح سے روک دے گا،اورمیں کہوں گاکہ یہاں دراندازی کا امکان ہے، لیکن حالیہ برسوں میں جس طرح سے ہم نے سرحدی باڑ کو مضبوط بنایا ہے، جس طرح سے نگرانی کے آلات سمیت تعیناتی کی گئی ہے، دراندازی کی کامیابی کی شرح میں کمی آئی ہے۔فوج کے سینئر افسر نے کہاکہ کیا ہوتا ہے کہ جب ایک طرف سے دباو ہوتا ہے، تو وہ دوسری طرف والے متبادل راستے آزماتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشت گرداب راجوری،پونچھ کے راستوں، پیر پنجال کے جنوب کے علاقوں کو آزما رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں کہاکہ دیگر راستوں کے مقابلے یہاں (وادی کشمیر میں) دراندازی میں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دراندازی کا مرکز اب زیادہ تر پیر پنجال کے جنوب کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔فوجی افسر نے مزید کہا کہ درحقیقت، ایسی اطلاعات ہیں کہ کچھ لوگوں نے نیپال کے راستے بھی گھس آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں(اسلحہ برداروں) کی تعداد پچھلے چند سالوں میں ہمارے پاس ہر سطح پر سب سے کم تعداد ہے لیکن یہ تعداد بدلتی رہے گی۔ ہمارے پاس زمین پر حرکیات کا غلبہ ہے۔فوجی افسرنے کہاکہ رواں سال40یا42دنوںمیں50سے زیادہ دہشت گردمارے گئے ہیں۔انہوںنے ملی ٹنسی کی صفوںمیں شامل ہونے والے نوجوانوںکی طرف اشارہ جرتے ہوئے کہاکہ ان کی مجموعی عمر نہ ہونے کے برابر ہے۔انہوںنے کہاکہ ملی ٹنسی معاشرے کےلئے ایک لعنت بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک چیلنج اور سیکورٹی خطرہ بنی ہوئی ہے لیکن سیکورٹی فورسزا س پرکام کر رہے ہیں۔فوج کے سینئرافسر نے کہاکہ جب تک لوگ ملی ٹنسی اورتشدد سمیت دیگرفضولیات کے منفی اثرات کونہیں سمجھیں گے ،تب تک سرگرم ملی ٹنٹوںکی تعداد100سے150تک جاری رہے گی ۔انہوںنے کہاکہ مقامی لوگوںکویہ سمجھنا ہوگاکہ کیا ہو رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ جب ملی ٹنٹوںکومقامی سطح پرتعاون اورسپورٹ ختم ہوگا توملی ٹنسی بھی ختم ہوجائیگی ۔فوجی افسر کے بقول ایک بار جب وہ (لوگ) ان سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے، تو پھر ملی ٹنٹوں کے پاس جانے کا کوئی راستہ نہیں رہے گا، اور آپ خود بخود اس پورے تصور کو ختم یا نمبر نیچے آتے ہوئے پائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں