545

کشتی میں کتنے اسکولی بچے اور دیگرافرادسوارتھے

تحقیقات شروع:حکام
نیوزسروس

سری نگر:۶۱، اپریل:منگل کی صبح تقریباًساڑھے 7بجے ،جب گنڈبل بٹوارہ کے نزدیک جہلم میں پانی کے پانی بہاﺅ کے بیچ ایک کشتی ،یہاں ایک زیرتعمیر پُل کے ایک حصے سے ٹکرانے کے بعد اُلٹ گئی ،تواس میں سوار سبھی افرادبشمول کشتی چلانے والا بھی دریائے جہلم میں ڈوب گئے ۔ابھی تک یہ ایک معمہ ہے کہ حادثے کے وقت کشتی میں کتنے افرادسوار تھے ۔حادثے پیش آنے کے بعد یہاں موجود عینی شاہدین نے بتایاکہ بدقسمت کشتی میں حادثے کے وقت20سے25افراد سوارتھے ،اور کشتی اُلٹ جانے کے بعد سبھی افرادجہلم میں گرگئے ،تاہم کشتی بان اور ایک خاتون سمیت تین افراد کسی طرح کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔تاہم باقی سبھی ڈوبنے والے افرادکو پانی کا تیز بہاﺅ بہاکر لے گیا ،اوروہ سبھی غرقآب ہوگئے ۔انہوںنے مزید کہاکہ حادثے کے وقت کشتی میں 8سے12اسکولی بچے وبچیاں،اُن کے والدین ،کچھ مزدور اورخواتین سوار تھیں۔اعلیٰ سیول وپولیس حکام نے کئی گھنٹوں تک بچاﺅ اورتلاش آپریشن کی نگرانی کی ،جس میں جموں وکشمیر پولیس ،ایس ڈی آرایف ،مارکوس اورفوج کی ٹیموںنے حصہ لیا۔حکام نے بتایاکہ 10افرادکو بچالیاگیا،6کے ازجان ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ باپ بیٹے سمیت کچھ افراد ہنوز لاپتہ ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اس بات کی چھان بین اورتحقیقات شروع کردی گئی ہے کہ حادثہ کیسے پیش آیا ،کیا اس میں گنجائش سے زیادہ افرادکو سوار کیاگیا تھا ،کیا کوئی احتیاط نہیں برتی گئی ۔حکام نے مزید بتایاکہ اس سلسلے میں کشتی بان اور حادثے میں بچ جانے والے خوش قسمت افراد سے بات کی جائے گی ،تاکہ اصل حقائق کا پتہ لگایاجاسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں