789

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا ملی ٹنٹ گروپوں اورپتھربازی میں شامل یا ملوث ہونے والوں کیلئے سخت پیغام

افراد خانہ کو کوئی سرکاری ملازمت نہیں ملے گی
گھرکے کسی فردکے دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کی اطلاع حکام کو دینے والے خاندانوں کو ریلیف دیا جائےگا
نیوزمانٹرینگ

سری نگر :۷۲،مئی:مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں کسی دہشت گرد کے خاندان کے کسی فرد یا پتھراو کرنے والوں کے قریبی رشتہ داروں کو سرکاری ملازمت نہیں ملے گی۔امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی حکومت نے نہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو بھی ختم کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں زبردست کمی آئی ہے۔ موقر خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی )کودیئے ایک انٹرویو میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے واضح کیاکہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگرجموں وکشمیرمیں کوئی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوتا ہے، تو اس کے خاندان کے افراد کو کوئی سرکاری نوکری نہیں ملے گی۔اسی طرح، امت شاہ نے کہاکہ اگر کوئی پتھر بازی میں ملوث ہے، تو اس کے خاندان کے افراد کو بھی سرکاری نوکری نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے کچھ کارکن اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ گئے لیکن آخر کار حکومت کامیاب ہو گئی۔تاہم وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت اس صورت میں استثنیٰ دے گی جب کسی خاندان کا کوئی فرد سامنے آئے اور حکام کو مطلع کرے کہ اس کا قریبی رشتہ دار دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے خاندانوں کو ریلیف دیا جائے گا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پہلے کشمیر میں کسی دہشت گرد کے مارے جانے کے بعد جنازے نکالے جاتے تھے۔لیکن ہم نے اس رجحان کو روک دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ دہشت گرد کو تمام مذہبی رسومات کےساتھ لیکن ایک الگ تھلگ جگہ پر دفن کیا جائے۔مرکزی وزیرداخلہ نے کہا کہ جب کوئی دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے گھیرے میں ہوتا ہے تو اسے پہلے ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم اس کی ماں یا بیوی جیسے خاندان کے افراد کو فون کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ دہشت گرد سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کریں۔ اگر وہ (دہشت گرد) نہیں سنتا تو وہ مر جاتا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے کیونکہ حکومت نے نہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو بھی ختم کیا ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ قومی تحقیقاتی ایجنسی(NIA) کے ذریعے، ہم نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور اسے ختم کیا ہے۔ ہم نے دہشت گردی کی فنڈنگ پر بہت سخت موقف اختیار کیا ہے۔ممنوعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) کے معاملے میں،امت شاہ نے کہا کہ حکومت نے اس کے ذریعہ دہشت گردانہ نظریات کی اشاعت اور پھیلاو¿ پر پابندی عائد کر دی ہے۔کیرالہ میں قائم مسلم بنیاد پرست گروپ پی ایف آئی کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ مبینہ روابط کی وجہ سے ستمبر 2022 میں مرکز کی طرف سے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات کے تحت پابندی لگا دی گئی تھی۔امت شاہ نے کہاکہ ایک مبینہ خالصتانی علیحدگی پسند امرت پال سنگھ کے معاملے میںہم نے اسے قومی سلامتی ایکٹ کے تحت جیل میں ڈال دیا ہے۔ بنیاد پرست سکھ علیحدگی پسند گروپ’ وارث پنجاب دے‘ کے سربراہ امرت پال سنگھ، کو اپریل 2023 میں پنجاب میں سخت قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں آسام منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ ڈبرو گڑھ جیل میں بند ہیں۔امت شاہ نے حال ہی میں پنجاب کی کھڈور صاحب سیٹ سے لوک سبھا الیکشن لڑنے کے لیے جیل سے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں