881

لوک سبھانشست بارہمولہ کے18اسمبلیحلقے

2014کے انتخابی نتائج،کس پارٹی کو کتنی سیٹوںپر جیت،آئندہ کا منظرنامہ؟

نیوزسروس
سری نگر :۷۲،مئی:پارلیمانی انتخابات کے کامیاب انعقادکے اب جموں وکشمیرمیں طویل عرصے کے بعداسمبلی انتخابات کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے ،کیونکہ چیف الیکشن کمشنر راجیوکمارکے علاوہ وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے بھی سپریم کورٹ کی ڈیڈلائن یعنی30ستمبر2024سے پہلے اسمبلی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ایسے میں سیاسی گلیاروں اور سیاسی حلقوں ومبصرین میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے بعد جموں وکشمیرکی90 رُکنی اسمبلی کا منظر نامہ کیسا ہوگا۔25نومبرسے20دسمبر2014تک جب آخری مرتبہ جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کرائے گئے تو اس میں پی ڈی پی کو28،بی جی پی کو25،نیشنل کانفرنس کو15اور پردیش کانگریس کو12حلقوں میں کامیابی ملی ،پیپلز کانفرنس کو 2نشستوں پر جیت ملی ۔اب اگر ہم شمالی کشمیرکے تین اضلاع بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ اورساتھ ہی وسطی ضلع بڈگام کی کل17اسمبلی نشستوں کا جائزہ لیں تو بیشتر اسمبلی حلقوں میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو کامیابی ملی تھی اور ساتھ ہی پردیش کانگریس اور پیپلز کانفرنس کو دو،دوحلقوںمیں جیت ملی تھی ۔2014میں جموں وکشمیر ووٹروں کی کل تعداد73 لاکھ 16ہزار946تھی ،اور تب کل 65.91فیصد پولنگ کی مجموعی شرح ریکارڈکی گئی تھی ،جو ماضی کے مقابلے میں4.75فیصد زیادہ تھی۔پی ڈی پی کو22.7فیصدکیساتھ کل10لاکھ92ہزار203ووٹروں کااعتماد حاصل ہوا تھا،23فیصد یعنی کل11لاکھ 7ہزار194ووٹروںنے بی جے پی پر اعتمادظاہرکیا تھا ،اور20.8فیصد یعنی جموں وکشمیرکے کل 10لاکھ693رائے دہندگان نے نیشنل کانفرنس پر اعتمادکااظہارکیا تھا۔2014کے اسمبلی انتخابات کے بعد پی ڈی پی اور بی جے پی نے ملی جلی یامخلوط سرکار بنائی ،جسکے نتیجے میں مفتی محمد سعیدمرحوم یکم مارچ2015سے 7جنوری 2016یعنی 312دنوں تک وزیراعلیٰ رہے ،اسکے بعد مرحوم کی موت واقعہ ہونے کی وجہ سے تقریباً3ماہ تک جموں وکشمیرمیں عارضی گورنرراج رہا ۔4اپریل 2016کو محبوبہ مفتی نے پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھالیا،اورموصوفہ اس عہدے پر20جون 2018 یعنی2سال77دنوں تک براجمان رہیں ،تاہم بی جے پی کی جانب سے پی ڈی پی کی حمایت واپس لینے کے نتیجے میں محبوبہ مفتی کی سرکار گرگئی ،اور جموں وکشمیرمیں گورنرراج نافذکردیاگیا ،جو ابھی تک مسلسل جاری ہے ۔اس دوران 5اگست2019کو مرکزی سرکارنے دفعہ370اور35Aکو منسوخ کرانے کی بلیں پارلیمان سے منظور کرائیں ،اورساتھ ہی جموں وکشمیر کو دومرکزی زیر انتظام علاقوں جموں وکشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیاگیا ۔بہرحال اس سارے پس منظر کے برعکس حال ہی میں جموں وکشمیرکی پانچ لوک سبھا سیٹوں پر پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے،جو25مئی کو اننت ناگ ،راجوری سیٹ پر ہوئی ووٹنگ کیساتھ مکمل ہوگئے ۔ اب جہاں تک شمالی اوروسطی کشمیر کے 18اسمبلی حلقوں کا تعلق ہے تو سال 2014کے مقابلے میں سبھی اسمبلی سیٹوںکا منظرنامہ بدل گیاہے یا تبدیل ہوا ہے ۔جہاں پی ڈی پی اس پورے علاقے میں بکھرگئی ہے یاکہ کمزور ہوئی ہے ،وہیں نیشنل کانفرنس پھر ایک مضبوط پوزیشن میں نظرآتی ہے ۔پیپلز کانفرنس کیساتھ ساتھ جیل میں بند سابق ممبراسمبلی انجینئر رشیدکی عوامی اتحاد پارٹی نے اپنا دائرہ اثر بڑھادیا ہے جبکہ سید الطاف بخاری کی اپنی پارٹی شمالی اور وسطی کشمیرمیں خود کو پی ڈی پی کے متبادل کے طور پرایک نئی سیاسی قوت کے طور منوانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔اگلے اسمبلی انتخابات میں بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ اور بڈگام اضلاع میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ،ابھی یہ کہنایااندازہ لگانا مشکل ہے،لیکن 20مئی کو پارلیمانی انتخابات کے تحت ڈالے گئے ووٹوں کاتناسب 4جون 2024کوہونے والی ووٹ شماری کے بعد کافی کچھ واضح کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں