معاملے سے نمٹنے اور جا ئزہ لینے کےلئے 6ماہ کا وقت
حکومت کمیٹی کی سفارشات کے مطابق عمل کرے گی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کااسمبلی میں اعلان
10,757 ملٹی ٹاسک سروس آسامیوں کی نشاندہی، جلد ہی بھرتی ایجنسیوں کو بھیج دی جائیں گی، مزید 6000 ریفرل کےلئے تیار
نیوزسروس
سری نگر:۰۲، مارچ: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیرمیں یومیہ اجرت پرکام کرنے والوں کو باقاعدہ بنانے کے مسئلے سے نمٹنے کےلئے ایک پینل تشکیل دیا گیا ہے، جو 6 ماہ میں حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت جموں و کشمیر میں سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کےلئے تیزی سے بھرتی کو یقینی بنانے کےلئے پرعزم ہے۔ بی جے پی سے وابستہ ممبراسمبلی ستیش شرما کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہاکہ پچھلی بار اسمبلی میں ایک کمیٹی کا اعلان کیا گیا تھا، اور اس کی تشکیل کیلئے ایک رسمی حکم نامہ جاری کیا گیا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ یومیہ اجرت کو باقاعدہ بنانے کے مسئلے سے نمٹنے اور اس معاملے کی جانچ کےلئے چیف سیکریٹری کے تحت کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پینل کو معاملے کا جائزہ لینے کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے، اور سفارشات موصول ہونے کے بعد، حکومت اس کے مطابق عمل کرے گی۔ حکومت نے بدھ کے روزجموں و کشمیرمیں یومیہ اجرت والے محنت کشوں بشمول ہزاروں ڈیلی ویجروں وغیرہ کی عارضی ملازمتوں کو باقاعدہ بنانے سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔فاسٹ ٹریک بھرتی کے معاملے پر، وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے اسامیوں کو مو¿ثر طریقے سے پ±ر کرنے کےلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوںنے مزیدکہاکہ جموں کشمیر حکومت نے اپنی بھرتی کے عمل کو تیز کیا ہے، پچھلے2 سالوں میں 15000 سے زیادہ آسامیوں کو پ±ر کیا ہے۔ پچھلے2 سالوں میں 13,466 نان گزیٹیڈ آسامیاں جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کو بھیجی گئی تھیں جن میں سے 9351 کا انتخاب مکمل ہو چکا ہے۔عمرعبداللہ نے کہاکہ اسی طرح، جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کو بھیجی گئی 2390 گزیٹیڈ آسامیوں میں سے، 2175 کا انتخاب کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ بھرتی کو مزید ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے10,757 ملٹی ٹاسک سروس اسامیوں کی نشاندہی کی ہے جن کا فی الحال محکمہ خزانہ کے زیر جائزہ ہے۔ یہ آسامیاں جلد ہی ریکروٹنگ ایجنسیوں کو بھیج دی جائیں گی۔ مزید برآں، 6000 آسامیاں ریفرل کےلئے تیار ہیں اور جلد ہی بھرتی کے لیے بھیج دی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے، حکومت نے پے لیول 5 (29,200-92,300 روپے) تک کی تمام پوسٹوں کے لیے انٹرویوز کو ختم کر دیا تھا۔14 فروری2025 کے ایک حالیہ حکم نامے میں جونیئر انجینئروںاور نائب تحصیلداروں سمیت لیول 6 کی آسامیوں کے لیے انٹرویو کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حکومت بھرتیوں میں شفافیت اور کارکردگی کو بڑھا رہی ہے، وزیر اعلیٰ نے کہاکہ منصفانہ بھرتی کو یقینی بنانے کے لیے، بھرتی کے ضوابط پر نظر ثانی کی گئی اور 22 نومبر 2022 کو مطلع کیا گیا۔ اب کمپیوٹر پر مبنی تحریری امتحانات منعقد کیے جائیں گے، اور جہاں بھی ممکن ہو سکے ایک سے زیادہ آسامیوں کے لیے ایک ہی امتحان لیا جائے گا۔جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہدف پر مبنی نقطہ نظر اپنائیں اور ایک مقررہ وقت کے اندر بھرتی مکمل کریں۔عمرعبداللہ نے کہاکہ ہم اس سال کے آخر تک 1502 گزیٹیڈ اور 5751 نان گزیٹیڈ آسامیاں پ±ر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن میں 150جونیئر انجینئر پوسٹیں بھی شامل ہیں جو حال ہی میں JKSSB کو بھیجی گئی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں بھرتیوں کا عمل بھی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہاکہ ہم اسسٹنٹ پروفیسروں، لائبریرین اور فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرز کے لیے150 گزیٹیڈ آسامیوں پر کارروائی کر رہے ہیں۔ پہلے ہی ریفر کی گئی 840 اسامیوں میں سے 476 کو پ±ر کیا جا چکا ہے، اور باقی 364 کے لیے انتخاب کا عمل جاری ہے۔ مزید برآں، 116 نان گزیٹیڈ آسامیوں کو کلیئر فنانشل کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت کی توجہ بھرتیوں کو تیز کرنے، انصاف کو یقینی بنانے اور پورے جموں و کشمیر میں روزگار کے مواقع بڑھانے پر مرکوز ہے۔ (ایجنسیاں)