1,615

لوک سبھا میں 288اور راجیہ سبھا میں 120سے زیادہ ارکان پارلیمان کی حمایت، وقف ایکٹ1995 میں ترمیم،مسلم وقف ایکٹ 1923 منسوخ

وقف (ترمیمی) بل: ایوان زیریںمیں بھی منظوری یقینی
بل نیک نیتی پرمبنی ، بل مسلمانوں کےخلاف نہیں،ہم کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے،وقف بورڈکانام بدل کرUMEED رکھ دیا گیا:کرن رجیجو
نیوزسروس

سری نگر:۳،اپریل:بدھ کے روز لوک سبھامیں12گھنٹے کی طویل بحث کے بعدرات کے تیسری پہر وقف (ترمیمی) بل2025کو232کے مقابلے میں 288ارکان کی حمایت کیساتھ صوتی ووٹوں سے منظور کئے جانے کے بعد جمعرات کو دن کے تقریباًایک بجے اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وقف (ترمیمی) بل2025راجیہ سبھا میں پیش کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ مجوزہ قانون سازی مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے یا ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مقصد نہیں ہے، بلکہ وقف املاک کے کام کاج کو بہتر بنانے، انتظامی ٹکنالوجی کو یقینی بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔لوک سبھا نے تقریباً12 گھنٹے کی بحث کے بعد جمعرات کی صبح 288-232 ووٹوں سے بل کو منظور کر لیا۔ بل کو ایوان بالا میں پیش کرتے ہوئے، جس کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے جانچ کی اور اسے دوبارہ تیار کیا، کرن رجیجو نے کہا کہ مجوزہ قانون کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ صرف جائیدادوں سے متعلق ہے۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس بل کا مقصد تمام مسلم فرقوں کو وقف بورڈ میں شامل کرنا ہے۔وزیر نے ایوان کو بتایا کہ 2004 میں4.9 لاکھ وقف جائیدادیں تھیں جو اب بڑھ کر 8.72 لاکھ ہو گئی ہیں۔بل کو منظور کرنے کے لیے اپوزیشن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کرن رجیجو نے کہا کہ اس کا مقصد پچھلی حکومتوں کے نامکمل کاموں کو پورا کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وقف ملک میں سب سے زیادہ جائیدادوں کا مالک ہے، دفاع اور ریلوے کی ملکیت کو چھوڑ کر۔اپوزیشن کے الزامات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا، یہ بل مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو کاکہناتھاکہ وقف بورڈ صرف وقف املاک کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا ہے نہ کہ ان کا انتظام کرنے کے لیے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت نے ایک نیک نیتی کے ساتھ بل پیش کیا ہے، اور اس طرح اس کا نام بدل کرUMEED رکھ دیا گیا ہے۔ کسی کو نام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔حکومت نے وقف بل کا نام بدل کر یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ ایمپاورمنٹ، ایفیشینسی اینڈ ڈیولپمنٹ (UMEED) بل رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بل پیش کئے جانے کے بعد لوک سبھاکی طرح راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن کے بیشتر ارکان نے جم کر بل کی مخالف کی اور کہاکہ یہ مسلمانوں کیساتھ ایک بڑی زیادتی ،ناانصافی اور زبردستی کیساتھ ساتھ آئین کی بھی سریحاًخلاف ورزی ہے ۔انہوںنے الزام لگایاکہ ایک کے بعد ایک من مانافیصلہ لیکر بی جے پی کی سربراہی والی این ڈی اے حکومت ملک کے آئین کو کمزور سے کمزور تربنانے میں مصروف ہے ۔بحث کے جواب میں، مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے ہندوستان سے زیادہ محفوظ دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ محفوظ ہیں کیونکہ اکثریت مکمل طور پر سیکولر ہے۔انہوں نے کہا کہ پارسیوں جیسی معمولی اقلیتیں بھی ہندوستان میں محفوظ ہیں اور یہاں تمام اقلیتیں فخر کے ساتھ رہتی ہیں۔انہوں نے بل پر بحث کے بعد کہاکہ کچھ ارکان نے کہا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں، یہ بیان مکمل طور پر غلط ہے۔انہوں نے بل پر بحث کے بعد کہاکہ اقلیتوں کے لیے ہندوستان سے زیادہ محفوظ کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ میں بھی ایک اقلیت ہوں اور ہم سب یہاں بغیر کسی خوف اور فخر کے رہ رہے ہیں۔ قابل ذکرہے کہ لوک سبھامیں اپوزیشن ارکان کی طرف سے پیش کی گئی تمام ترامیم کو صوتی ووٹوں سے مسترد کر دینے کے بعد یہ بل رات کے تیسری پہرمنظور کر لیا گیا۔ اسے ووٹوں کی تقسیم کے بعد منظور کیا گیا ۔ حق میں288 اور مخالفت میں232۔ وقف (ترمیمی) بل2025میں وقف ایکٹ1995 میں ترمیم کی گئی ہے۔ وقف (ترمیمی) بل2025مسلم وقف ایکٹ 1923 کو منسوخ کرتا ہے۔واضح رہے کہ راجیہ سبھا میں فی الحال236 ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ یہاں بل پاس ہونے کے لیے 119 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی کے98 ارکان ہیں۔ تاہم اسے این ڈی اے کی حلیف پارٹیوں جے ڈی یو، ٹی ڈی پی، شیو سینا (شندے گروپ) اور این سی پی کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے راجیہ سبھا سے بھی وقف ترمیمی بل کے پاس ہونے کا قوی امکان ہے۔راجیہ سبھا میں این ڈی اے کے ارکان کی تعداد 115 ہے۔ اس کے علاوہ 6 نامزد ارکان بھی ہیں جو ووٹنگ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں ملا کر ایوان بالا میں این ڈی اے کی تعداد121 تک پہنچ جاتی ہے، جب کہ بل کو پاس کرانے صرف 119 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ وہیں انڈیا اتحاد کے پاس راجیہ سبھا میں کانگریس کے27 ارکان کو ملا کر کل85 ایم پیز ہیں۔ وہیں راجیہ سبھا میں وائی ایس آر کانگریس، بی جے ڈی اور اے آئی اے ڈی ایم کے جیسی پارٹیاں کسی بھی طرف جا سکتی ہیں۔ابھی راجیہ سبھامیں بل پر بحث جاری تھی ،اور کچھ دیر بعد یا شام کے وقت وقف ترمیمی بل2025پر ایوان بالا میں باضاطہ طور پرووٹنگ کی جائے گی اور آثار وقرائین سے لگتاہے کہ یہاں بھی بل کوواضح اکثریت کے ساتھ منظور کیاجائے گا۔ اگر یہ بل راجیہ سبھا سے بھی پاس ہوجاتا ہے تو اسے منظوری کے لیے صدر جمہوریہ کے پاس بھیج دیا جائے گا۔ صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد یہ باضابطہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں