مذہبی معاملات میں مداخلت کا ارادہ نہیں
مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور وقف املاک کی بدانتظامی کو روکنا :وزیرداخلہ امت شاہ
نیوزسروس
سری نگر:۳،اپریل:مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز وقف (ترمیمی) بل کے بارے میں خدشات کو دُور کرتے ہوئے واضح کیا کہ وقف بورڈ کے غیر مسلم اراکین کا مذہبی امور کے انتظام میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے بل کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے پر اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وقف بورڈ یا اس کے احاطے میں مقرر کوئی بھی غیر مسلم ممبر مذہبی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوگا۔ امت شاہ نے کہا کہ یہ قانون کسی بھی کیمونٹی کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ان دعوو¿ں کی تردید کی کہ بورڈ میں غیر مسلموں کو شامل کرنے کا مقصد وقف کے معاملات میں مداخلت کرنا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے الزامات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور وقف املاک کی بدانتظامی کو روکنا ہے۔امت شاہ نے کہا کہ مذہبی اداروں کا انتظام چلانے والوں میں کسی بھی غیر مسلم کو شامل کرنے کا التزام نہیں ہے۔ ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ مسلمانوں میں یہ غلط افواہ ووٹ بینک کے مقصد سے پھیلائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرنا ان کا (غیر مسلم ارکان) کام نہیں ہے۔ ان کا کام یہ دیکھنا ہے کہ وقف کا قانون اور دی گئی رقم کا انتظام ٹھیک سے چل رہا ہے یا نہیں۔ (غیر مسلم) اراکین دیکھیں گے کہ کیا وقف کا انتظام و انصرام قانون کے مطابق چلایا جا رہا ہے اور کیا عطیات اور جائیدادیں ان کے مطلوبہ مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ میں ایوان کے توسط سے ملک کے مسلمانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے وقف میں ایک بھی غیر مسلم نہیں آئے گا۔ اس ایکٹ میں ایسا کوئی التزام نہیں ہے۔ لیکن وقف بورڈ اور وقف کونسل (جس میں غیر مسلم شامل ہوں گے) کیا کرے گی، وقف کی جائیداد بیچنے والوں کو پکڑ کر باہر نکالے گی، وقف کے نام پر100 سال کے لیے جائیداد لیز پر دینے والوں کو پکڑے گی، وقف کی آمدنی کم ہو رہی ہے، جس آمدنی سے ہمیں اقلیتی کی ترقی کرنی ہے، انہیں آگے بڑھانا ہے، وہ پیسہ چوری ہو رہا ہے، وقف بورڈ کونسل اسے پکڑے گی۔انہوں نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں کانگریس نے ان لوگوں کی شکایات کو عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر رکھنے کا گناہ کیا جن کی زمین چھینی گئی تھیں۔ حکومت یا کسی ادارے کا کوئی بھی فیصلہ عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر کیسے ہو سکتا ہے؟ جس کی زمین چھینی گئی وہ کہاں جائے گا؟ کانگریس نے ووٹ بینک کی سیاست کے لیے ایسا کیا، اور ہم اسے مسترد کر رہے ہیں۔ نئے وقف قانون کے تحت کوئی بھی شخص شکایت کے ساتھ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔حکمراں این ڈی اے نے لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل کا زبردست دفاع شروع کیا، اپوزیشن کے اس الزام کے درمیان کہ یہ غیر آئینی ہے اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، جیسا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے زور دے کر کہا کہ حکومت کا ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف وقف املاک کے شفاف انتظام کے مقصد سے ہے۔