آج سری نگرمیںحکمران اتحاد کے ارکان اسمبلی کی اہم میٹنگ
نائب وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر طلب کردہ میٹنگ کی صدارت وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کریں گے
نیوزسروس
سری نگر:۳،اپریل:16اکتوبر2024کو تشکیل پانے والی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی سربراہی والی تقریباًساڑھے5ماہ پرانی منتخب حکومت اور لیفٹنٹ گورنر کے درمیان اختیارات یا کام کاج سے متعلق قواعد(بزنس رولز)کو لیکر تنازعہ پیداہوگیاہے ،کیونکہ لیفٹنٹ گورنر کی ہدایت پر31مارچ کو48جے کے اے ایس افسران کاتبادلہ عمل میں لانے کے بعد وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس معاملے پر غوروخوض کیلئے 4اپریل بروز جمعہ کو سری نگرمیں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور اسکی اتحادی پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کی ایک ہنگامہ مگراہم میٹنگ طلب کی ہے ۔ ملی تفصیلات کے مطابق نیشنل کانفرنس لیجسلیٹو پارٹی اور اس کے اتحادی پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کی ایک اہم میٹنگ4 اپریل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں ہو گی۔ چیف وہپ مبارک گل نے پارٹی قانون سازوں اور اتحادیوں کے نام ایک خط میں لکھاہے کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ،جواسمبلی میں، قائد ایوان بھی ہیں، کی صدارت میں، 4 اپریل 2025 کو صبح 11بجے اہم میٹنگ معزز نائب وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ (فیئر ویو، گپکار، سری نگر) میں منعقد ہوگی۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اجلاس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام معزز ممبران سے گزارش ہے کہ براہ کرم مذکورہ تاریخ، وقت اور مقام پر مذکورہ اجلاس میں شرکت کو آسان بنائیں۔اس کے ساتھ، تمام معزز اراکین سے اجلاس میں شرکت کی درخواست کی جاتی ہے۔دریں اثناءذرائع نے بتایا کہ یہ میٹنگ کئی اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرے گی، خاص طور پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ذریعہ48 افسران کے حالیہ تبادلے،یہ اقدام جو پہلے وزیر اعلی کے دائرہ کار میں تھا۔غور طلب ہے کہ31مارچ عید کے دن لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے48 افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلوں کا حکم دیا تھا، جس میں مبینہ طور پر منتخب حکومت کے اختیارات کو کمزور کرنے پر تنقید کی گئی تھی۔جب کہ ایل جی کے پاس آئی اے ایس افسران کے تبادلے کے اختیارات ہیں، جے کے اے ایس افسران کے سلسلے میں تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار منتخب حکومت کے پاس ہے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے (6 مارچ، 2025) کواسمبلی میں کہا کہ حکومت نے یونین ٹیریٹری انتظامیہ کے لیے بزنس رولز وضع کئے ہیں اور اسے مرکز کی حتمی منظوری کے لیے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو بھیج دیا گیاہے۔نظرثانی شدہ بزنس رولز میں وزیر اعلیٰ، کابینہ، وزراءاور انتظامی سیکرٹریوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہمیں بزنس رولز بنانے کی ضرورت تھی۔ انہیںکابینہ نے تیار کیا اور منظوری دی ہے،اور اسے ایل جی کو بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نےجموں و کشمیر اسمبلی کومزید بتایا تھاکہ ہم اس کی منظوری کی توقع رکھتے ہیں۔ اس وقت تک، یہ نظام ہم عارضی سمجھتے ہیں۔