سٹی ایکسپریس نیوز
سری نگر، 3 اپریل، 2025: جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے وقف (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ہندوستانی آئین کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بل دفعہ 25 سے متصادم ہے، جو مذہب کے حق کی ضمانت دیتا ہے، اور مذہبی یا ذاتی معاملات میں مداخلت کے خلاف خبردار کیا گیا ہے۔
اسپیکر کے یہ ریمارکس 12 گھنٹے کی میراتھن بحث کے بعد بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے متنازع قانون کی منظوری کے جواب میں آئے ہیں۔ حکمراں بی جے پی کی زیر قیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے اقلیتوں کو فائدہ پہنچے گا، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے “مسلم مخالف” قرار دیا۔
سپیکر عبدالرحیم راتھر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرح کے حقوق کو پامال کرنے کی کوئی بھی کوشش خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے مذہب یا ذاتی معاملات میں مداخلت کرنا اچھی بات نہیں ہے۔
وقف (ترمیمی) بل، 2025 نے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں سخت رد عمل کو جنم دیا ہے، ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ اس کا مقصد مسلم مذہبی اداروں کی خودمختاری کو کمزور کرنا ہے۔ اپوزیشن نے اس قانون کو مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ (ایجنسیاں)