لکھنؤ، 3 نومبر,2026: اتر پردیش میں ’دیپوتسو‘ کی تقریبات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اس موقع پر، منگل کے روز وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس تہوار کو سماجی اتحاد، مشترکہ عقیدے اور ثقافت کی علامت قرار دیا، جو لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں، آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ایودھیا میں منایا جانے والا ’دیپوتسو‘ سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی شرکت کا ایک متاثر کن پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2017 سے پہلے کی حکومتوں نے اس ثقافتی قوت کو یکسر نظر انداز کر دیا تھا جو معاشرے کو متحد رکھتی ہے، اور اس کے بجائے انہوں نے ذات پات کی تقسیم کو اپنی سیاست کی بنیاد بنا لیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی ’ڈبل انجن‘ حکومت نے 2017 میں ’دیپوتسو‘ کا آغاز کر کے اس طرزِ عمل کو تبدیل کر دیا۔ انہوں نے بھگوان رام کی جائے پیدائش، ایودھیا کے ثقافتی ورثے کو ایک ایسے تہوار میں بدل دیا جس میں معاشرے کے تمام طبقات کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “معزز سنتوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں، اب مذہبی رہنما، طلباء، صفائی ستھرائی کے کارکن، کمہار اور تاجر—سبھی یکساں جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ ان تقریبات میں حصہ لیتے ہیں۔” آدتیہ ناتھ نے مزید کہا، “یہاں شناخت کا تعین ذات پات سے نہیں، بلکہ (تقریبات میں) شرکت سے ہوتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ جب زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ دیپ (چراغ) روشن کرتے ہیں، تو “ان کی روشنی پورے معاشرے کو منور کرتی ہے اور اسے متحد کرتی ہے۔” وزیر اعلیٰ نے کہا، “یہی ’دیپوتسو‘ کا پیغام ہے اور یہی ایک ایسے معاشرے کا وژن ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور جس میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔”