دہشت گردی میں کمی، معیشت دوگنی
ایمانداری سے امن، ترقی کیلئے کام کرنے پر مطمئن ہوں:لیفٹیننٹ گورنر
نیوزایجنسی
سرینگر//۶۱، جولائی: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے عہدے پر پانچ سال مکمل کر لیے ہیں۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سال ریاست کے لیے تبدیلی کے سال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے لے کر حالیہ دہشت گرد حملوں تک، ہر چیلنج کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ترقی، امن اور بھروسے کی راہ پر گامزن کیا گیا ہے۔کشمیرنیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق انہوں نے بتایا کہ جب وہ جموں و کشمیر آئے تو جموں سے سرینگر پہنچنے میں آٹھ گھنٹے لگتے تھے، اب یہی سفر ساڑھے چار گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ 1.5 لاکھ کروڑ روپے کے ہائی وے اور سرنگوں کے منصوبے اس وقت زیر تعمیر ہیں، جس سے آمدورفت میں آسانی اور معیشت کو رفتار ملی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں ریاست کی معیشت دوگنی ہوئی ہے۔ جے کے بینک، جو پہلے خسارے میں تھا، اب منافع میں آ چکا ہے۔ ریاست میں انفرااسٹرکچر کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے میں بھی ترقی ہوئی ہے۔ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، نِفٹ اور سات سے زائد میڈیکل کالجز قائم ہوئے ہیں۔منوج سنہا نے کہا کہ گزشتہ سال جموں و کشمیر میں 2.38کروڑ سیاح آئے، جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے اور معیشت کو فروغ ملا۔ ساتھ ہی، نئی صنعتی پالیسی کے ذریعے 10 سے 12 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری زمینی سطح پر آ چکی ہے اور 30ہزار کروڑ کے مزید منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔زرعی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک جامع منصوبہ 2022 میں بنایا گیا، جس کا مقصد زراعت اور اس
سے وابستہ شعبوں کی آمدنی میں دوگنا اضافہ کرنا ہے۔ آن لائن گورننس کو فروغ دیا گیا ہے اور 1140 سے زائد خدمات عوام کو ڈیجیٹل طریقے سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ زمینوں کا ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب جموں و کشمیر میں نہ کرفیو ہوتا ہے، نہ ہڑتال، اور نہ ہی پتھراو ¿۔ دہشت گرد تنظیموں کے کئی بڑے کمانڈر مارے گئے ہیں، اور مقامی نوجوانوں کی شدت پسند گروہوں میں شمولیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ "پہلے ہر سال 100 سے زائد نوجوان شامل ہوتے تھے، اس سال صرف ایک ہوا ہے۔”دہشت گردی کے متاثرین کے لیے جاری اسکیموں پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان متاثرین کو سرکاری نوکریاں، مالی امداد، اور روزگار کے مواقع دیے جائیں گے۔ "کل 40 متاثرین کو سرکاری ملازمت دی جا رہی ہے اور دیگر شکایات پر بھی تیزی سے کارروائی ہو رہی ہے۔ آپریشن سندور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی اور ترقی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر پاکستان کی طرف سے کوئی حملہ ہوتا ہے تو اسے جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ "ہماری فورسز پوری طرح الرٹ ہیں اور ہر خطرے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔”نئے کشمیر کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ریاست میں تعلیم کا کلینڈر چلتا ہے، پاکستان کا نہیں۔ "35 سال بعد محرم کے جلوس نکلے، امرناتھ یاترا کامیابی سے جاری ہے، اور ہر مذہب کے لوگ مل کر تہوار منا رہے ہیں۔ ریاستی درجہ کی بحالی پر منوج سنہا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کہا گیا تھا کہ پہلے حد بندی، پھر اسمبلی الیکشن، اور پھر ریاستی درجہ دیا جائے گا۔ یہ ایک وعدہ ہے، جو مناسب وقت پر ضرور پورا کیا جائے گا۔”چیف منسٹر کے اختیارات کے حوالے سے سوال پر گورنر نے کہا کہ سبھی اختیارات آئینی طور پر طے شدہ ہیں اور وہ اپنے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ منتخب نمائندوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ان افراد کے بارے میں، جنہیں دہشت گردی سے تعلق کی بنیاد پر نوکری سے برخاست کیا گیا، گورنر نے کہا کہ یہ کارروائیاں آئین کے آرٹیکل 311 کے تحت کی گئی ہیں۔ "یہ مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ شواہد کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے ہیں۔”آخر میں، پانچ سال مکمل ہونے پر انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ انہوں نے ایمانداری سے جموں و کشمیر کو امن، ترقی اور ایک مضبوط مستقبل کی طرف لے جانے کی پوری کوشش کی۔ "آج ریاست میں بھارتی حکومت کی مکمل رٹ قائم ہے، اور جموں و کشمیر مکمل طور پر بھارت کے ساتھ جڑا ہوا ہے
