نئی دہلی، 5 اکتوبر,2026: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز سوئس صدر گائے پارملین کی میزبانی کی۔ اس ملاقات کا مقصد بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنا تھا، خاص طور پر تجارت و سرمایہ کاری، نقل و حرکت (موبلٹی) اور اہم ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں۔ پارملین نے آج صبح بھارت کے اپنے تین روزہ دورے کا آغاز کیا۔ یہ ان کا بھارت کا پہلا سرکاری دورہ ہے اور اس سال کا دوسرا دورہ؛ اس سے قبل وہ فروری میں ‘اے آئی امپیکٹ سمٹ’ میں شرکت کے لیے بھارت آئے تھے۔ قومی دارالحکومت پہنچنے کے فوراً بعد، سوئس رہنما کا راشٹرپتی بھون کے احاطے میں رسمی استقبال کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے راج گھاٹ کا دورہ کیا اور مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پر کہا، “دونوں رہنماؤں کے سامنے ایک اہم ایجنڈا موجود ہے جس کے تحت وہ بھارت-سوئٹزرلینڈ شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کریں گے اور اسے مزید آگے بڑھانے کے لیے نئے مواقع تلاش کریں گے۔” وزیر اعظم مودی کے ساتھ پارملین کی بات چیت سے قبل، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوئس رہنما سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد، وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ بھارت-سوئٹزرلینڈ شراکت داری کو گہرا کرنے کے حوالے سے صدر پارملین کے جذبات کی “بھرپور قدر” کرتے ہیں، جو کہ بھارت-ایفٹا تجارتی اور اقتصادی شراکت داری معاہدے کے عزم پر مبنی ہے۔ یہ معاہدہ تقریباً 16 سال کی بات چیت کے بعد مارچ 2024 میں بھارت اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے درمیان طے پایا تھا۔
اس بڑے تجارتی معاہدے کے تحت، یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے رکن ممالک—آئس لینڈ، لیختنسٹائن، ناروے اور سوئٹزرلینڈ—آئندہ 15 برسوں کے دوران بھارت میں 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہونے والا یہ تجارتی معاہدہ بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔ اس وقت بھارت میں 330 سے زائد سوئس کمپنیاں انجینئرنگ، خدمات، درست آلات ، کیمیکلز اور دواسازی جیسے شعبوں میں کام کر رہی ہیں، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں بھی بھارتی کمپنیاں آئی ٹی ، دواسازی اور مشینری جیسے شعبوں میں موجود ہیں۔ پارمیلن صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کریں گے، جو ان کے اعزاز میں ایک سرکاری ضیافت کا اہتمام بھی کریں گی۔(ایجنسیاں)