سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے طریقہ کار کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کرے گی؛ درخواست گزاروں نے چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
نئی دہلی، 5 اکتوبر,2026: سپریم کورٹ پیر کو الیکشن کمیشن آف انڈیاکے کام کاجاورفیصلہ سازی کے عمل پر سوال اٹھانے والی درخواستوں کے ایک مجموعے کی سماعت کرنے والی ہے۔ ان درخواستوں میں یہ الزامات بھی شامل ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے انتخابی پینل کے دیگر ارکان کی رضامندی کے بغیر کچھ فیصلے کیے۔ توقع ہے کہ جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین ججوں پر مشتمل بنچ—جس میں جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا شامل ہیں—پٹنہ کے رہائشی راکیش کمار سنگھ اور وکیل شیلیندر مانی ترپاٹھی کی جانب سے دائر کردہ معاملات کی سماعت کرے گا۔ درخواستوں میں اس طریقہ کار کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ طور پر کچھ فیصلے، رہنما خطوط اور انتظامی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا چیف الیکشن کمشنر دیگر الیکشن کمشنروں کی شرکت یا منظوری کے بغیر، کثیر رکنی آئینی ادارے کے سے متعلق معاملات پر آزادانہ طور پر فیصلے کر سکتے ہیں؟ ایک درخواست میں عبوری ہدایات کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ معاملے کے حتمی فیصلے تک چیف الیکشن کمشنرکو کچھ مخصوص فرائض کی انجام دہی سے روکا جا سکے۔ اس میں مزید زور دیا گیا ہے کہ کمیشن کے معاملات اجتماعی فیصلہ سازی کے لیے رائج فریم ورک (ضابطہ کار) کے مطابق چلائے جائیں۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات اور فرائض کا استعمال قانونی دائرہ کار کے اندر ہونا چاہیے اور دیگر کمشنروں کی شرکت کے بغیر کیے گئے مبینہ فیصلوں کی عدالتی جانچ ضروری ہے۔ درخواستوں میں انتخابی فہرستوں کی ‘خصوصی اور تفصیلی نظرثانی’ (SIR) سے متعلق مسائل پر الیکشن کمیشن کے ارکان کے درمیان مبینہ اختلافات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی سے متعلق مبینہ اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی ہے کہ اس طرح کے اختلافات کمیشن کے اہم فیصلے لینے کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ ادارہ جاتی مشاورت کے دوران رائے کا اختلاف کثیر رکنی ادارے کے کا حصہ ہے اور اس کے فیصلے اور احکامات قانون اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری کیے گئے ہیں۔ درخواستوں میں اٹھایا گیا ایک اور اہم مسئلہ ‘فارم 6’ سے متعلق ہے، جو نئے ووٹروں کی رجسٹریشن کے لیے استعمال ہوتا ہے
درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ فارم میں ترمیم کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار کی پیروی کیے بغیر، آبائی کوائف اور انتخابی فہرستوں کی گزشتہ نظرثانی کے عمل سے تعلق جیسے اضافی تقاضوں کو کمیشن کے سافٹ ویئر میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے اس بات کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا ایسی تبدیلیاں انتظامی سطح پر متعارف کرائی جا سکتی تھیں یا ان کے لیے متعلقہ انتخابی قوانین اور ضوابط کے تحت مقررہ طریقہ کار کی پاسداری لازمی تھی۔
درخواستوں میں گوا اور مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں (انتخابی فہرستوں) کی نظرثانی کے عمل کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے اہل ووٹرز کے ناموں کی بحالی اور ووٹر لسٹوں سے متعلق فیصلوں کے خلاف بعد میں دائر کی جانے والی اپیلوں کے معاملے پر اٹھائے گئے اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک درخواست میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کے نام سے ان ووٹرز کے خلاف بڑی تعداد میں اپیلیں دائر کی گئیں جن کے نام عدالتی افسران نے بحال کیے تھے۔ یہ الزامات درخواستوں کا حصہ ہیں اور سپریم کورٹ کی جانب سے ان پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ایڈووکیٹ شیلیندر مانی ترپاٹھی نے ایڈووکیٹ چاند قریشی کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر (CEC) کے بعض مبینہ اقدامات کو بھی چیلنج کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ‘چیف الیکشن کمشنر اینڈ ادر الیکشن کمشنرز ایکٹ، 2023’ کے تحت اجتماعی فیصلہ سازی کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتے۔ درخواست میں قانون سازی کی دفعہ 18 کا حوالہ دیا گیا ہے، جو الیکشن کمیشن کے (فنکشننگ) سے متعلق ہے اور کمیشن کے ارکان کے درمیان اختلافِ رائے کی صورت میں اکثریتی رائے کو ترجیح دینے کا طریقہ کار وضع کرتی ہے۔ لہٰذا، درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات کے دائرہ کار اور کثیر رکنی کمیشن کے فیصلوں کے طریقہ کار کے بارے میں وضاحت کرے۔ اس کارروائی میں مرکزی وزارتِ قانون و انصاف، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، اور الیکشن کمیشن کے سینئر عہدیدار منیش گرگ کو فریق بنایا گیا ہے۔ توقع ہے کہ سپریم کورٹ کی سماعت میں الیکشن کمیشن کے آئینی اور قانونی ، چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات کے دائرہ کار، اجتماعی فیصلہ سازی اور ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے طریقہ کار سے متعلق امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ مقدمہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں ملک کے انتخابی انتظام کرنے والے ادارے کے ادارہ جاتی اور ووٹر لسٹوں و ووٹر رجسٹریشن پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں سے متعلق تحفظات جیسے وسیع تر سوالات شامل ہیں۔ تاہم، درخواست گزاروں کی جانب سے اٹھائے گئے الزامات اور دعوے ابھی سپریم کورٹ کی جانچ پڑتال کے مرحلے میں ہیں اور اس مرحلے پر ان امور پر کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا گیا ہے۔