ایل آئی سی کا 2,684.57 کروڑ روپے کے ناجائز نقصان کا الزام؛ سی بی آئی کی جانب سے فنڈز کی منتقلی کی تحقیقات
سٹی ایکسپریس نیوز
نئی دہلی، 19 ستمبر،2026: سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کی سرمایہ کاری سے متعلق مبینہ دھوکہ دہی کے سلسلے میں ممبئی کی کمپنی ‘ریلائنس کیپیٹل لمیٹڈ’، اس کے سابق چیئرمین انیل ڈی امبانی، ‘ریلائنس انیل دھیروبھائی امبانی گروپ’ (اے ڈی اے گروپ) کے گروپ مینیجنگ ڈائریکٹر ستیش سیٹھ، نامعلوم سرکاری ملازمین اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
18 ستمبر 2026 کی سی بی آئی کی پریس ریلیز کے مطابق، ایجنسی نے ایل آئی سی کی جانب سے موصول ہونے والی تحریری شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آردرج کی۔
یہ شکایت 12 اپریل 2012 سے 9 مارچ 2018 کے عرصے سے متعلق ہے، جس کے دوران ایل آئی سی نے ریلائنس کیپیٹل لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ پانچ ‘نان کنورٹیبل ڈیبینچرز’ (این سی ڈیز) خریدے تھے جن کی مجموعی مالیت 3,900 کروڑ روپے تھی۔
اطلاعات کے مطابق یہ سرمایہ کاری عام کاروباری مقاصد، فنڈنگ کی ضروریات اور موجودہ قرض کی ری فنانسنگ (دوبارہ قرض لینے) کے لیے کی گئی تھی۔
شکایت میں شامل الزامات کے مطابق، ملزمان نے مبینہ طور پر مجرمانہ سازش کی اور دھوکہ دہی، مجرمانہ خیانتِ امانت، مجرمانہ بدعنوانی، فنڈز کی منتقلی/خرد برد اور کھاتوں میں جعل سازی جیسے جرائم کا ارتکاب کیا۔
سی بی آئی نے کہا کہ ان مبینہ اقدامات کے نتیجے میں ایل آئی سی کو 2,684.57 کروڑ روپے کا ناجائز نقصان ہوا، جبکہ اس کے برعکس ملزمان اور دیگر مستفید ہونے والوں کو ناجائز فائدہ پہنچا۔
ایجنسی نے الزام لگایا ہے کہ مبینہ غلط بیانی کے ذریعے ایل آئی سی کو ریلائنس کیپیٹل میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کیا گیا اور بعد ازاں سرمایہ کاری کی گئی رقم کو دھوکہ دہی سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔
سی بی آئی نے ملوث تمام افراد (بشمول سرکاری ملازمین اور نجی افراد) کے کردار کی نشاندہی کرنے، مبینہ مجرمانہ سازش کا جائزہ لینے اور سرمایہ کاری کی گئی رقم کے حتمی استعمال اور منتقلی کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ تفتیش کے دوران سرمایہ کاری سے متعلق حالات اور بعد ازاں فنڈز کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جائے گا۔ سی بی آئی نے ریلائنس گروپ سے منسلک مقدمات میں پہلے آٹھ ایف آئی آرزدرج کی تھیں
سی بی آئی نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس نے عوامی شعبے کے مختلف بینکوں، ای پی ایف اواورایل آئی سی سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ (آر کام)، ریلائنس کیپیٹل لمیٹڈ (آر سی اے پی)، ریلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ (آر ایچ ایف ایل)، ریلائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ (آر سی ایف ایل) اور ریلائنس ٹیلی کام لمیٹڈ (آر ٹی ایل) کے خلاف پہلے آٹھ ایف آئی آرز درج کی تھیں۔
ایجنسی کے مطابق، اس نے اب تک ان مقدمات میں چھ چارج شیٹس دائر کی ہیں اور سات ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
سی بی آئی نے بتایا کہ سابقہ مقدمات کی تفتیش جاری ہے اور معزز سپریم کورٹ ان کی نگرانی کر رہی ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ وہ موجودہ معاملے کی جامع اور تیز رفتار تفتیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ (ایجنسیاں)
