سری نگر، 19 اکتوبر,2026: پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پیر کے روز چنار کے درختوں کی کٹائی پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صدیوں پرانی ان نشانیوں (چناروں) کا ازالہ نئے پودے لگا کر نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں محبوبہ مفتی نے لکھا، “ایک چنار کو اپنی پوری آب و تاب تک پہنچنے میں نسلیں لگ جاتی ہیں، لیکن عمر عبداللہ کا خیال ہے کہ کشمیر کی ان صدیوں پرانی نشانیوں کو کاٹنے کا ازالہ چھوٹے پودے لگا کر کیا جا سکتا ہے۔ آپ صدیوں پرانے ورثے کی جگہ محض پودے لگا کر نہیں لے سکتے!” محبوبہ مفتی نے ‘کشمیری توش شالوں’ پر عائد پابندی کا ذکر کرتے ہوئے اسے مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں عمر عبداللہ کے بطور وزیر تجارت کام کرنے کے دور سے جوڑا۔ انہوں نے کہا، “یہ کتنی حیران کن اور افسوسناک بات ہے! مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں وزیر تجارت کے طور پر، عمر عبداللہ کا تعلق دنیا بھر میں مشہور کشمیری ‘توش شالوں’ پر عائد پابندی سے رہا ہے۔ اب ہمارے چنار کٹ رہے ہیں۔ پہلے کشمیر کے ‘بنے ہوئے ورثے’ پر ضرب لگائی گئی اور اب اس کے ‘زندہ ورثے’کو خطرہ لاحق ہے۔” محبوبہ مفتی نے مزید کہا، “کشمیر کوئی ایسی چیز نہیں جسے وہ ایک ایک روایت اور ایک ایک درخت ختم کر کے تباہ کر دیں۔”