موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کے باعث طلبی کا حکم قانونی طور پر ناقابلِ جواز ٹھہرتا ہے؛ یہ شق غیر ضروری ہراسانی کی روک تھام کے لیے وضع کی گئی ہے۔
سٹی ایکسپریس نیوز
سری نگر، 14 جولائی،2026: جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ عدالت کی علاقائی حدود سے باہر رہائش پذیر ملزم کو سمن جاری کرنے سے پہلے مجسٹریٹ کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 202 کے تحت انکوائری کرنا لازمی ہے۔
جسٹس سنجے دھر نے دفعہ 202 ضابطہ فوجداری کے دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ شق مجسٹریٹ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ قانونی کارروائی (سمن وغیرہ) کے اجراء کو ملتوی کرے اور یا تو خود انکوائری کرے یا تفتیش کا حکم دے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کافی بنیادیں موجود ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ ایسی انکوائری اس وقت صوابدیدی ہوتی ہے جب ملزم مجسٹریٹ کی علاقائی حدود کے اندر رہائش پذیر ہو، لیکن جب ملزم متعلقہ عدالت کی حدود سے باہر رہ رہا ہو تو یہ لازمی ہو جاتی ہے۔
ہائی کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ ملزم مجسٹریٹ کی علاقائی حدود سے باہر رہ رہا ہے، تو عدالت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ سمن جاری کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے دفعہ 202 ضابطہ فوجداری کے تحت انکوائری کرے یا تفتیش کا حکم دے۔
جسٹس دھر نے مزید کہا کہ اس لازمی قانونی تقاضے کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں سمن جاری کرنے کا حکم قانونی طور پر ناقابلِ برقرار ٹھہرتا ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
فوجداری کارروائیوں میں طریقہ کار سے متعلق حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عدالت نے مشاہدہ کیا کہ دفعہ 202 ضابطہ فوجداری کے تحت لازمی انکوائری کا مقصد مجسٹریٹ کی حدود سے باہر رہنے والے افراد کو غیر ضروری ہراسانی سے بچانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فوجداری کارروائی صرف اسی صورت میں شروع کی جائے جب کافی بنیادیں موجود ہوں۔
یہ فیصلہ مجسٹریٹس کی اس قانونی ذمہ داری کو تقویت دیتا ہے کہ وہ دفعہ 202 ضابطہ فوجداری کے تقاضوں کی سختی سے پابندی کریں، جس سے طریقہ کار میں شفافیت اور انصاف کو فروغ ملتا ہے اور بلاوجہ قانونی کارروائی کے خلاف ملزمان کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔
